لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانیہ اور فرانس اس ماہ پولینڈ میں 12 یورپی ممالک کے تقریباً 2,800 فوجیوں کی قیادت کریں گے۔ یہ اس بات کی مشق ہے کہ امن معاہدہ ہونے کی صورت میں ایک کثیر القومی فورس یوکرین میں کیسے تعینات کی جائے گی۔
مشق کوالیتسیا 9 سے 22 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس میں یہ جانچا جائے گا کہ یوکرین کے اندر فورس کو کیسے منتقل کیا جائے، اس کی حفاظت کیسے کی جائے اور اسے رسد کیسے پہنچائی جائے، اور یہ بھی کہ مختلف ممالک کے فوجی ایک ہی کمان کے تحت کام کر سکتے ہیں یا نہیں۔ برطانیہ 300 فوجی اور آر اے ایف (RAF) کے دو ٹائفون طیارے بھیج رہا ہے، جو یوکرین کی فضائی حدود دوبارہ کھلنے کے بعد تجارتی طیاروں کو اطمینان دلانے کی مشق کریں گے۔
برطانیہ کے وزیر دفاع ویس سٹریٹنگ نے کہا: "یہ کوئی فرضی منصوبہ نہیں، یہ ایک حقیقی فورس ہے جو لڑائی رکتے ہی یوکرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔" ملٹی نیشنل فورس یوکرین کے برطانوی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ٹام بیٹمین نے اسے "حقیقی، اہل اور فوری طور پر تعینات کی جا سکنے والی فورس" قرار دیا۔
مغربی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فورس جارحانہ کارروائیوں، امن قائم رکھنے کے مشن یا جنگ بندی کی نگرانی میں حصہ نہیں لے گی، نہ نیٹو (NATO) کی کمان کے تحت ہو گی اور نہ محاذِ جنگ پر ہو گی۔ اس کا کام یوکرین کو اطمینان دلانا اور اس کی مسلح افواج کی تعمیرِ نو میں مدد کرنا ہو گا۔ حکام نے یہ واضح کرنے سے انکار کیا ہے کہ اگر اس کے فوجیوں پر حملہ ہوا تو ضوابطِ جنگ کیا ہوں گے، اور صرف یہ کہا ہے کہ وہ اپنا دفاع کر سکے گی۔
امریکہ مذاکرات کا حصہ رہا ہے لیکن اس مشن میں حصہ نہیں ڈال رہا۔ روس یوکرین میں غیر ملکی فوجیوں کی مخالفت کرتا ہے، اور صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ سال کہا تھا کہ وہ "جائز اہداف" ہوں گے۔
امن معاہدہ ابھی طے نہیں پایا۔ جنگ بندی کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہونے پر حالیہ دنوں میں روسی بمباری سے کم از کم 26 افراد ہلاک ہو گئے، یہ لوگ یوکرین کے ایک اسکول میں تھے جو امداد کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔



