اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سینیٹ کے ایک اجلاس کو منگل کے روز بتایا گیا کہ پاکستان 2005 میں پی ٹی سی ایل (PTCL) کی فروخت کے 80 کروڑ ڈالر کی واجب الادا رقم، 2008 سے اس کے انتظار کی لاگت اور ہرجانے کی وصولی کے لیے اتصالات کے خلاف بین الاقوامی ثالثی پر غور کر رہا ہے۔
نجکاری اور آئی ٹی سے متعلق سینیٹ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس کو بتایا گیا کہ اٹارنی جنرل کے دفتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے پر وفاقی کابینہ کے فیصلے پر جلد از جلد عمل درآمد کرے۔ سیکرٹری آئی ٹی نے اس موضوع کو حساس قرار دیا، اور اجلاس کی باقی کارروائی بند کمرے میں ہوئی۔
وزارتِ نجکاری کی بریفنگ کے مطابق پاکستان نے پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول اتصالات کو 2.59 ارب ڈالر میں فروخت کیے تھے۔ اب تک 1.76 ارب ڈالر وصول ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 80 کروڑ ڈالر کی ادائیگی باقی ہے۔ اتصالات، جو اب ای اینڈ (e&) کے نام سے جانی جاتی ہے، نے بقیہ رقم کو پی ٹی سی ایل کی جائیدادوں کی منتقلی سے مشروط کیا تھا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 99 فیصد جائیدادیں منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ 3,246 میں سے 32 کی منتقلی باقی ہے۔
جولائی میں وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری کی سربراہی میں قائم کی گئی ایک کمیٹی نے 20 سال کے تنازع کے بعد ثالثی کی سفارش کی، جس کی اجازت فروخت کے معاہدے میں موجود ہے۔ اٹارنی جنرل پہلے اس کیس کا جائزہ لیں گے، اور اتصالات کو ارادے کا نوٹس بھیجنے سے پہلے انہیں وزیرِ اعظم یا وفاقی حکومت کی منظوری درکار ہوگی۔
سینیٹرز نے شکایت کی کہ انہیں فروخت کا معاہدہ خود دیکھنے کی رسائی نہیں دی گئی۔ اتصالات کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔



