اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے کیمرے والے اسمارٹ چشموں کی درآمد پر پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔ فنانس ڈویژن نے بدھ کو بتایا کہ اس طرح ان چشموں کے بارے میں، جو لوگوں کی خاموشی سے فلم بنا سکتے ہیں، بڑھتی ہوئی بحث میں ایک قومی اقدام کا اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں کامرس ڈویژن کی سمری پر کیا گیا۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی کہ صوبے اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری ان آلات کے استعمال سے متعلق کام کی جگہوں کے لیے قواعد متعارف کرائیں۔
بیان میں کسی برانڈ کا نام نہیں لیا گیا، اور نہ یہ بتایا گیا کہ پابندیاں کب سے نافذ ہوں گی، آیا وہ مکمل پابندی کے مترادف ہیں، یا ملک میں پہلے سے موجود چشموں کا کیا ہوگا۔ رے بین میٹا (Ray-Ban Meta) جیسے آلات اس تعریف میں آئیں گے، کیونکہ ان میں کیمرے نصب ہیں۔
یہ معاملہ کیوں سامنے آیا
تشویش یہ ہے کہ ایسے چشمے عام عینک جیسے دکھائی دیتے ہیں، مگر ان سے تصویریں لی جا سکتی ہیں، ریکارڈنگ اور لائیو اسٹریمنگ کی جا سکتی ہے اور آس پاس کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔
پنجاب میں محکمہ داخلہ نے 20 اکتوبر کو کیمرے والے اسمارٹ چشمے اور چھوٹے خفیہ کیمرے پہننے پر 30 دن کے لیے پابندی لگا دی، اور دکانوں یا آن لائن انہیں فروخت کرنے پر بھی۔ اس کی وجہ رازداری اور سلامتی، اور خاص طور پر خواتین اور بچوں کو لاحق خطرہ بتایا گیا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے منظور شدہ فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ اس پابندی سے مستثنیٰ تھے، اور اسی طرح مجاز قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی۔
لاہور ہائیکورٹ میں دائر ایک درخواست میں بھی ان چشموں کی بلا ضابطہ درآمد اور فروخت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ میٹا ان چشموں کی منڈی کے طور پر پاکستان کو درج نہیں کرتی، مگر یہ لاہور میں، بشمول حفیظ سینٹر، فروخت ہو رہے ہیں۔ عدالت نے ستمبر میں وفاقی حکومت، ٹیلی کام اتھارٹی اور وزارت تجارت کو نوٹس جاری کیے تھے۔
اگر آپ کے پاس یہ چشمے ہیں یا آپ خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں
ای سی سی (ECC) کے اب تک کے بیان میں پاکستان میں موجودہ مالکان کو کوئی بھی اقدام کرنے کی ہدایت نہیں دی گئی۔ تاہم پنجاب میں جب تک یہ حکم نافذ ہے، ان چشموں کو پہننا یا استعمال کرنا ممنوع ہے، اور یہ حکم تقریباً 19 نومبر تک نافذ رہے گا، الا یہ کہ اسے واپس لے لیا جائے یا اس میں توسیع کر دی جائے۔ بیرونِ ملک سے ایسا کوئی جوڑا لانے کا ارادہ رکھنے والوں کو چاہیے کہ وزارتِ تجارت کی جانب سے تفصیلات جاری کیے جانے کا انتظار کریں۔



