لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اگر آپ آن لائن کسی چیز کی ادائیگی کریں اور وہ کبھی نہ پہنچے تو آپ کا مقدمہ عام دیوانی عدالت کے بجائے صارف عدالت میں چلے گا، چاہے آپ لاکھوں روپے ہرجانے کا دعویٰ ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔
جسٹس ملک وقار حیدر اعوان نے کہا کہ ایسے تنازعات، جن میں مکمل ادائیگی کے بعد سامان کی عدم فراہمی اور منسوخ کیے گئے آرڈر شامل ہیں، صارف عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ انہوں نے قرار دیا کہ خریدار اپنے دعوے کو "عمومی ہرجانہ" کہہ کر اس سے بچ نہیں سکتے، کیونکہ دائرہ اختیار کا تعین وجۂ دعویٰ سے ہوتا ہے، نہ کہ استعمال کیے گئے الفاظ یا طلب کی گئی رقم سے۔
مقدمے کا آغاز کپڑوں کی دو اشیا سے ہوا جن کی مالیت 6,480 روپے تھی۔ ڈاکٹر محمد احتشام قمر نے کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کی، لیکن اشیا بروقت نہیں پہنچیں اور فروخت کنندگان نے 17 دن بعد کوویڈ 19 کی وبا کا حوالہ دے کر آرڈر منسوخ کر دیا۔ انہیں رقم واپس مل گئی، جس کے بعد انہوں نے ذہنی اذیت اور بدنامی سمیت رقم کی واپسی اور ہرجانے کے طور پر 2,116,480 روپے کا دعویٰ دائر کر دیا۔
فروخت کنندگان نے پہلے لین دین سے انکار کیا، پھر بکنگ تسلیم کر لی اور کہا کہ مال دستیاب نہیں تھا اور رقم واپس کر دی گئی تھی۔
دیوانی عدالت نے مقدمہ پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2005 کے تحت قائم فورم کو بھیج دیا، اور اپیل بھی ناکام رہی۔ اب ہائیکورٹ نے ان کی درخواست خارج کر دی ہے۔
پنجاب میں آن لائن خریداری کرنے والوں کے لیے اس کا مطلب: اپنی ادائیگی کا ریکارڈ، آرڈر کی تصدیق اور فروخت کنندہ کے تمام پیغامات محفوظ رکھیں، کیونکہ گمشدہ یا منسوخ آرڈر کی شکایت آپ کے ضلع کی صارف عدالت میں جائے گی۔



