اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پیٹرولیم ڈویژن نے جمعے کو بتایا کہ ترکیہ کی سرکاری آف شور تیل کمپنی کا سیسمک سروے جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی پہنچے گا اور پاکستان کی سمندری تہہ میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے نقشہ سازی شروع کرے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں ترکش پیٹرولیم آف شور کمپنی کے جہاز کی آمد کے لیے سکیورٹی، بحری اور انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔ علی پرویز ملک نے اسے “پاکستان اور ترکیہ کی دوستی کا ایک خاص لمحہ” قرار دیا اور کہا کہ وہ کراچی میں خود جہاز کا استقبال کرنے کی کوشش کریں گے۔
اجلاس میں سرکاری توانائی کمپنیوں او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل کے سربراہان کے علاوہ وزارتِ خارجہ، بحری امور، دفاع اور داخلہ، قومی ہائیڈروگرافک آفس اور کراچی میں پورٹس اینڈ شپنگ ڈائریکٹوریٹ کے حکام نے شرکت کی۔
جہاز کیا کرے گا: سیسمک سروے میں سمندری تہہ میں آواز کی لہریں بھیجی جاتی ہیں اور ان کی بازگشت ریکارڈ کر کے نیچے موجود چٹانوں کی تہوں کی تصویر بنائی جاتی ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ تیل یا گیس کہاں موجود ہو سکتی ہے۔ یہ کسی بھی کھدائی سے پہلے کا مرحلہ ہے اور اس سے ذخائر ملنے کی ضمانت نہیں ملتی۔
ترکیہ کی سرکاری تیل کمپنی نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے ساتھ مل کر ان 23 آف شور بلاکس میں سے ایک میں 25 فیصد حصہ لیا تھا جو پاکستان نے گزشتہ سال 2007 کے بعد پہلی آف شور بولی میں دیے تھے۔ اس وقت حکام نے بتایا تھا کہ کامیاب گروپس نے پہلے تین سال میں سروے اور ابتدائی جائزوں پر تقریباً 8 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے، اور کھدائی کا مرحلہ آنے پر یہ سرمایہ کاری 75 کروڑ سے ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
پاکستان کو آج تک سمندر میں تیل یا گیس کا کوئی تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل ذخیرہ نہیں ملا۔ 1947 سے اب تک پاکستان کے سمندری علاقے میں صرف 18 کنویں کھودے گئے ہیں، اور آخری بڑی کوشش، کیکڑا-1 گہرے سمندر کا کنواں، 2019 میں تجارتی نتائج کے بغیر ترک کر دیا گیا تھا۔ ملک اپنی ضرورت کا تقریباً نصف تیل درآمد کرتا ہے۔
یہ سروے دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا بھی حصہ ہے۔ ترک پارلیمنٹ نے اسی ہفتے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دی ہے۔



