اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں تمام ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے ڈیڈ لائنز کے ساتھ ایک واضح روڈ میپ تیار کیا جائے۔
وزیراعظم نے یہ ہدایت جمعے کو اسلام آباد میں کیش لیس معیشت کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی، اور کہا کہ کیش لیس معیشت کا فروغ حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ بیان کے مطابق انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں صارفین کو درپیش مسائل فوری حل کیے جائیں اور ملک کے ہر حصے میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی تک رسائی یقینی بنائی جائے۔
کیا بدلے گا اور کب: اجلاس کو بتایا گیا کہ سرکاری آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے ذریعے چیک سے ادائیگیاں 15 نومبر سے بند ہو جائیں گی اور ملک بھر میں ان کی جگہ راست کا فوری ادائیگی نظام لے لے گا، جبکہ یہ ادائیگیاں کرنے والے افسران کو تربیت دی جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق زیادہ تر وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں کی ادائیگیاں دسمبر 2026 تک مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائیں گی، اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تمام ادائیگیاں پہلے ہی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہو رہی ہیں۔
بل ادا کرنے والوں کے لیے: وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی اور گیس کے صارفین کو بل پر چھپے راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کی ترغیب دینے کے لیے میڈیا مہم چلائی جائے، اور کہا کہ خریداروں اور دکانداروں کے درمیان راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کی اسکیم حکومتی سرپرستی میں جاری رہے۔ اس طرح بل ادا کرنے کے لیے اپنی بینک یا والٹ ایپ کھولیں، کیو آر کوڈ اسکین کرنے کا آپشن منتخب کریں اور اسے بل پر موجود کوڈ کی طرف کریں۔
حکام نے بتایا کہ انٹرنیٹ سے محروم علاقوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام اور پورے ملک میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی کام جاری ہے۔ تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں کو کیش لیس معیشت کے منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعظم نے گزشتہ سال جون میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی تھی، اور اس سال جولائی میں بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت کی تھی۔



