The Thursday Times’ Pakistani news section dives into the pulse of Pakistani politics, offering sharp analysis and timely updates on the decisions and debates shaping the nation’s future, from the corridors of power to grassroots movements.
حذّر وزير الخارجية الباكستاني إسحاق دار نظيره الإيراني من شنّ أي هجمات على السعودية، مشيراً في ذلك إلى اتفاق الدفاع المشترك بين باكستان والسعودية. وفي وقتٍ سابق، أعرب رئيس الوزراء شهباز شريف خلال اتصال هاتفي مع ولي العهد السعودي عن تضامنٍ كامل مع المملكة.
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پارلیمانی جماعتوں کے راہنماؤں و نمائندوں کا اجلاس، دفترِ خارجہ حکام نے ایران اسرائیل تنازعہ کے بعد ملکی فارن پالیسی پر بریفنگ دی۔ شرکاء کو خلیجی و عرب ممالک پر ایرانی حملوں کے بعد پاکستانی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔
مریم نواز، صحافی حامد میر، ابصار عالم اور صحافی اسد طور ان لوگوں میں شامل ہیں جو عمران خان اور جنرل (ر) فیض حمید کی جانب سے قاتلانہ سازشوں میں محفوظ رہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آئین میں اقلیتوں کے حقوق پر منعقد کی گئی کانفرنس میں شرکت کی جہاں ایک صحافی نے ان سے آڈیو لیکس کے متعلق سوال پوچھا تو چیف جسٹس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
تحریکِ انصاف کی جانب سے اظہارِ یک جہتی فی الوقت چیف جسٹس اور دیگر ہم خیال ججز کی ضرورت ہے کیونکہ جب ججز اپنی قانونی ساکھ کھو بیٹھتے ہیں تو انہیں سیاسی بیساکھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم خیال ججز اور تحریکِ انصاف کا تعلق اب مکمل طور پر بےنقاب ہو چکا ہے لہذا ان دونوں کو اب ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے۔ آئین کے اندر چیف جسٹس کیلئے ایکسٹینشن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ثاقب نثار کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ بغیر مفاد کسی بھی قسم کی عمل میں شریک نہیں ہوتے اور ان کا سارا عدالتی کیریئر ایسا ہی ہے۔ اس وقت جو آئینی غیر آئینی، قانونی یا غیر قانونی جو سرگرمیاں جاری ہیں ان سب کا مقصد وہی وعدہ ہے جو عمران خان کی جانب سے اُن سے کیا گیا ہے۔
کیا اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے پوچھا جائے گا کہ ان کی سرپرستی میں اور انھی کی ناک کے نیچے جنرل (ر) فیض حمید کیسے ان جرائم میں ملوث رہا؟
رکن ممالک کو دہشتگردی سے نمٹنے اور اس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کیلئے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ہمارے لوگوں کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے لہذا ہمیں سفارتی پوائنٹ سکورنگ کیلئے دہشتگردی کو حربے کے طور پر استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
میری جنرل باجوہ سے دو ملاقاتیں ہوئیں جن میں جنرل باجوہ نے کہا حکومتیں توڑ دو میں الیکشن کروا دونگا۔ جنرل باجوہ نے ہمیں لال بتی کے پیچھے لگا دیا اور ہم نے اس کی بات پر یقین کر لیا۔
وزرائے اعظم کی گردنیں لینے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنے وزیراعظم کا تحفظ کرنا چاہیے چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو۔ وہ وقت چلا گیا جب وزیراعظم کو بلی چڑھایا جاتا تھا۔ اب پارلیمنٹ ہتھیار نہیں ڈالے گی، اب پارلیمنٹ اپنے وزیراعظم کی گردن نہیں اڑانے دے گی۔
تحریکِ انصاف کے اہم راہنماؤں نے امریکی سفارتخانے کے حکام کے ساتھ ملاقات میں معیشت کی بحالی کا پلان پیش کیا اور یقین دہانی کروائی کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں تحریکِ انصاف ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ قرض سمیت کیے گئے تمام معاہدوں کی پاسداری کرے گی۔
سیاستدان انصاف نہیں چاہتے بلکہ من پسند ججز کے ذریعے من پسند فیصلے چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں من پسند فیصلوں کے لیے پک اینڈ چوز چاہتی ہیں۔ سیاست نے عدالتی ماحول آلودہ کردیا ہے۔
جنرل فیض حمید جوڈی جی سی تھے میرے پاس آئے اورمجھ سے پوچھا کہ اگر میاں نواز شریف اور انکی بیٹی مریم نواز کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ آپکے پاس آئے گا تو آپ کیا کرینگے میں نے کہا ابھی تو وہاں فیصلہ نہیں ہوا تو جنرل فیض نے کہا کہ اسے چھوڑیں سزا تو ہونی ہی ہے ہم آپ سے ملکی مفاد میں فیصلہ چاہتے ہیں۔