دس سال بعد مودی کی نوٹ بندی کی اذیت کا حاصل بہت کم
بھارت کی 86 فیصد نقدی راتوں رات منسوخ کیے جانے کے ایک دہائی بعد خود اس کے اپنے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نقدی، بدعنوانی اور انتخابی سیاست کا پیسہ، سب کچھ اب بھی موجود ہے

99 تحریریں
بھارت کی 86 فیصد نقدی راتوں رات منسوخ کیے جانے کے ایک دہائی بعد خود اس کے اپنے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نقدی، بدعنوانی اور انتخابی سیاست کا پیسہ، سب کچھ اب بھی موجود ہے

ایران سے معاہدے کی امیدوں پر تیل کی قیمت میں تیز گراوٹ ایک خوش آئند مہلت ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس مہلت کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش، قیمتوں کے تعین کے اصول، زیادہ منصفانہ لیوی اور شمسی توانائی کی اس جانب منتقلی پر صرف کرے جس کا آغاز اس کے عوام پہلے ہی کر چکے ہیں۔

پاکستان کے چار صوبے کوئی انتظامی نقشہ نہیں۔ یہ چار جاگیریں ہیں، جنہیں وہ لوگ جوں کا توں رکھے ہوئے ہیں جو شہری اور ریاست کے درمیان فاصلے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

جامع سیکیورٹی تحقیقات میں ”تھرسڈے ٹائمز“ کے ڈیجیٹل نظام میں ہفتوں سے جاری دراندازی کا انکشاف ہوا ہے۔ تمام معمولات کی بحالی کے بعد ادارہ واضح کرتا ہے کہ آزاد و بےباک صحافت کیلئے ہمارا عزم بدستور برقرار ہے۔

وائٹ ہاؤس کی بے جواب ٹیلیفون کال سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست تک کا سفر دو برس میں کیسے طے ہوتا ہے؟ پاکستان سے پوچھیے۔ مکہ دفاعی معاہدہ۔ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی۔ دمشق کی جانب سے دعوت۔ اسی عرصے میں بھارت واشنگٹن کی نظرِ عنایت سے محروم ہو گیا۔


ممالک ایسے شراکت داروں کے ساتھ باہمی دفاعی عہد نہیں باندھتے جن کی قابلِ اعتماد حیثیت پر انہیں شک ہو، کیونکہ اس اندازے کی غلطی کی قیمت فوجیوں کی جانوں میں چکانی پڑتی ہے۔ ریاض اور انقرہ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان ایسی ریاست ہے جس کی بات اس وقت بھی قائم رہے گی جب اسے نبھانا مہنگا پڑے۔

اسلام آباد کی بڑھتی سفارتی حیثیت نے اسے بیانیے کی جنگ کا ہدف بنا دیا ہے۔ نیتن یاہو کے بیانات سے لِنڈسے گراہم کی تنقید تک اور بھارتی میڈیا کے منظم بیانیہ سے پاکستان کے اندر نئے دہشتگردانہ حملوں تک ایک نئی مخالفانہ لَہر اُبھرتی دکھائی دے رہی ہے۔

عمران خان کی افغان پالیسی نے قومی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ سفارتی احتیاط اور ریاستی حکمت کے بجائے انہوں نے قومی مفاد کو ذاتی مقبولیت کے تابع کر دیا، یوں وہ تمام رکاوٹیں کمزور ہو گئیں جو دشمن کی واپسی کے راستے میں حائل تھیں۔ آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ پالیسی کی اصلاح نہیں بلکہ تاخیر سے شروع ہونے والا ایک مشکل اور ناگزیر ریسکیو مشن ہے۔

پاکستان نے طاقت کے مظاہرے کے بعد سفارتکاری سے اپنا مؤقف منوایا اور خطے کا نیا نارمل اپنی شرائط پر قائم کر دیا۔ دوحہ میں اسلام آباد کا واحد مطالبہ تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی حمایت بند کی جائے، اور اگر وہاں سے حملے ہوئے تو ذمہ دار کیمپ جائز ہدف سمجھے جائیں گے۔
