صحت دہلیز: بلوچستان کے شعبۂ صحت میں بڑی پیش رفت
مفت مشاورت، الیکٹرانک نسخے، ریفرل اور خاندانی طبی ریکارڈ، سب ایک سرکاری پلیٹ فارم پر: بلوچستان نے ایک ایسا ماڈل بنایا ہے جس سے باقی پاکستان سیکھ سکتا ہے۔

338 تحریریں
مفت مشاورت، الیکٹرانک نسخے، ریفرل اور خاندانی طبی ریکارڈ، سب ایک سرکاری پلیٹ فارم پر: بلوچستان نے ایک ایسا ماڈل بنایا ہے جس سے باقی پاکستان سیکھ سکتا ہے۔

میں مسلم لیگ ن کے گھرانے میں پلا بڑھا، جہاں ہر کہانی میں جنرل ہی ولن ہوتا تھا۔ پندرہ برس بعد اب مجھے اس پر یقین نہیں رہا۔

جولائی سے جاری ایک احتجاجی تحریک اس بات کا امتحان لے رہی ہے کہ بھارت کے ادارے درحقیقت کتنے آزاد ہیں۔ ریاست نے حلفاً جو ریکارڈ جمع کرایا ہے، وہ بار بار اس ریکارڈ سے ٹکرا رہا ہے جو اس کے اپنے شواہد سے سامنے آتا ہے۔

عمران خان کی حکومت گِرانے میں اہم کردار ادا کرنے والے مولانا فضل الرحمٰن آج اُنھی کا سیاسی بیانیہ، زبان، شکایات اور مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ چار دہائیوں تک اقتدار کی میز پر جگہ پانے والے مولانا اب اقتدار کے دروازے بند ہونے پر شدید برہم دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے پوری سیاسی زندگی اقتدار کی میز پر مذاکرات کرتے گزاری۔ اب ایوانِ اقتدار سے باہر کر دیے جانے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن اسی شخص کی زبان بولنے لگے ہیں جسے ہٹانے میں انہوں نے خود کردار ادا کیا تھا۔

اے آئی کے دور میں اصل چیلنج اب معلومات تلاش کرنا نہیں، بلکہ یہ طے کرنا ہے کہ کیا چیز ہمارے اعتماد کی مستحق ہے۔ فضہ سجاول لکھتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت جس طرح خبروں اور معاشرے کی شکل بدل رہی ہے، اس میں انسانی بصیرت، تصدیق اور سیاق و سباق پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔

ظہران ممدانی پاکستانی نہیں ہیں، پھر بھی انہوں نے پاکستان میں ایک نایاب گرمجوشی پیدا کی ہے۔ اردو اور ہندوستانی سے ان کی سہولت، ان کی نمایاں مسلم شناخت اور جنوبی ایشیا کے ثقافتی ماحول سے ان کی وسیع ہم آہنگی نے انہیں کسی دور کے غیر ملکی سیاست دان کے بجائے ایسا شخص بنا دیا ہے جسے بہت سے پاکستانی فطری طور پر سمجھ لیتے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں پاکستان کے کردار نے امن کے لیے ایک تنگ مگر اہم موقع پیدا کر دیا ہے اور اسلام آباد کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ تاہم جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے، اور پاکستان کا اصل امتحان اب اس سفارتی کامیابی کو علاقائی، داخلی اور معاشی سطح پر دیرپا فوائد میں بدلنا ہے۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ؛ خیبرپختونخوا پولیس کی بہادری و قربانیاں بےمثال مگر صوبائی حکومت کی کمزور حکمتِ عملی اور استعداد و وسائل ناکافی ہیں۔ وی ائی پی پروٹوکولز، سیاسی مداخلت اور کمزور ڈھانچے کی قیمت میدانِ جنگ میں جوانوں کے خون سے ادا کرنا پڑتی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت اور بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ؛ بنگلہ دیشی مؤقف کی حمایت میں پاکستان کا قومی وقار، اصولی مؤقف اور کھلاڑیوں کی سلامتی کے پیشِ نظر فیصلہ عالمی کرکٹ میں عدم مساوات اور دوہرے معیار کے خلاف واضح پیغام ہے۔

سال 2025 میں انسدادِ دہشتگردی جدوجہد کو ناپنے کیلئے 7 پیمانے؛ قومی انسدادِ دہشتگردی کوششوں کا جائزہ لینے 7 قابلِ تصدیق پیمانے یہ واضح کرتے ہیں کہ 2025 میں ملکی سلامتی کے محاذ پر کتنی اور کس نوعیت کی کامیابیاں حاصل کی گئیں۔

گاؤں میں ’’انصاف کے کنویں‘‘ میں برسوں سے تیرتی تین اُود بِلاو آخرکار حافظ جی کے ایک خاص چھڑکاؤ سے بےنقاب ہوئیں، دو اُود بِلاو نکل گئیں مگر تیسری خاموش ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ پانی کسی حد تک صاف ہوا مگر دیواروں پر موجود پنجوں کے نشانات بتاتے ہیں کہ صفائی ابھی باقی ہے۔

پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے جہاں مذہبی سیاست اور مسلح انتہا پسندی دونوں ریاستی استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ ٹی ایل پی سڑکوں پر انتشار پھیلا رہی ہے اور ٹی ٹی پی بندوق کے زور پر ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہی ہے۔ دونوں کا مقصد مختلف مگر نتیجہ ایک ہے پاکستان کی کمزوری۔ اب وقت ہے کہ ریاست ایک ہی معیار اپنائے اور "سب سے پہلے پاکستان" کو نعرے سے بڑھا کر قومی پالیسی بنائے۔

پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے جہاں مذہبی سیاست اور مسلح انتہا پسندی دونوں ریاستی استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ ٹی ایل پی سڑکوں پر انتشار پھیلا رہی ہے اور ٹی ٹی پی بندوق کے زور پر ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہی ہے۔ دونوں کا مقصد مختلف مگر نتیجہ ایک ہے پاکستان کی کمزوری۔ اب وقت ہے کہ ریاست ایک ہی معیار اپنائے اور "سب سے پہلے پاکستان" کو نعرے سے بڑھا کر قومی پالیسی بنائے۔

بھارتی ائیر چیف کا نیا اور حقائق کے برعکس دعویٰ محض سیاسی بیانیہ گھڑنے کی کوشش لگتا ہے۔ تین ماہ کی خاموشی کے بعد ثبوتوں کے بغیر یہ بیان خارجہ سطح پر ناکامیوں اور اندرونی دباؤ سے فرار کا راستہ ہے، یہ وہی ہتھکنڈے ہیں جو بھارت 2019 میں بھی آزما کر ناکام ہو چکا ہے۔

تاریخ ہمیشہ کانفرنس ہالوں یا کاک ٹیل پارٹیوں میں نہیں بنتی۔ بعض اوقات یہ اندھیرے میں لکھی جاتی ہے — اُن لوگوں کے ہاتھوں جو بقا کے لیے جھکنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھا: ایک زخمی، تنہا اور دیوار سے لگی ہوئی قوم، جس کے پاس کوئی اور راستہ نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ طاقت کے اس کلب میں اپنی جگہ خود بنائے — جہاں پہنچنا صرف بہادروں کے حصے میں آتا ہے۔

مریم نواز شریف کے متحدہ عرب اماراتی صدر کیساتھ سفارتی مصافحے پر بےجا تنقید نے صنفی تعصب کو بےنقاب کر دیا۔ یہ تنقید مریم نواز کے انقلابی اقدامات اور اصلاحاتی پالیسیز پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ مریم نواز کی قیادت صنفی تعصب کے خلاف مزاحمت کی علامت بھی ہے۔

جب پاکستانی معیشت، اسٹاک مارکیٹ اور سفارتکاری میں نمایاں بہتری کے آثار ہیں، عمران خان کا سول نافرمانی کا اعلان کیا ان کے سیاسی کھیل کا آخری ترپ کا پتہ ثابت ہوگا یا 2014 کی سول نافرمانی تحریک اور آخری کارڈکی طرح ایک اور ناکام تجربہ؟

فیض حمید پر کورٹ مارشل کی چارج شیٹ ہونا بہت بڑا واقعہ ہے۔ ادارہ جب اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں کو انتشار کی سزا دے سکتا ہے تو عمران خان کس کھیت کی مولی ہے۔ کچھ فیصلے اٹل ہوتے ہیں، ان کے بعد تاریخ کا نیا سفر شروع ہو گا۔ ابھی شور ہے، انتشار ہے، ہنگامہ ہے، پھر سکون ہو گا، خاموشی ہو گی۔

پاکستانی عدلیہ کے نڈر اور اصول پسند جج قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ایسے عدالتی دور کا اختتام ہوا جس نے انصاف کی فراہمی، عدالتی شفافیت، آئینی بالادستی کو مزید مضبوط کیا۔فیض آباد دھرنا، ذوالفقار بھٹو، شوکت صدیقی کیسز جیسے تاریخی فیصلوں نے ان کی میراث کو عدلیہ کی آزادی کا استعارہ بنا دیا۔

سیاسی مقاصد کے حصول اور اداروں میں اہم تعیناتیوں کیلئے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد اب SCO اجلاس اور عدالتی چیف کی تعیناتی کے موقع پر بھی افراتفری پھیلائی جا رہی ہے۔ خلفشار کا یہ راستہ ملک و قوم کیلئے خطرناک ہے۔

حضرت محمد ﷺ کی محبت دین کی بنیادی شرط اور آپ ﷺ کی زندگی تمام انسانوں کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ رحمت اللعالمین بن کر آئے جو پوری انسانیت اور مخلوقات کے لیے آپ ﷺ کی شفقت کا ثبوت ہے۔ آپ ﷺ کا پیغام رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

کیا ججز کو آئین و قانون کی بجائے پاپولزم کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں؟ کیا کسی مجرم کو اس بنیاد پر ماورائے قانون ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے کہ اس کے ملین فالورز ہیں؟ پاپولزم کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر بھی سوالات بن کر سامنے آتے ہیں۔
