جنگ کی چنگاریوں میں مؤثر سفارت کاری
جنگی ڈھول کی تھاپ پر نشے میں دھت دنیا کے اندر خاموش مصلحت اور غیر معمولی اعصاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اقوامِ متحدہ میں مؤثر، مضبوط اور بااعتماد انداز میں پاکستان کا مؤقف اجاگر کر دیا ہے۔

99 تحریریں
جنگی ڈھول کی تھاپ پر نشے میں دھت دنیا کے اندر خاموش مصلحت اور غیر معمولی اعصاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اقوامِ متحدہ میں مؤثر، مضبوط اور بااعتماد انداز میں پاکستان کا مؤقف اجاگر کر دیا ہے۔

اکیسویں صدی کے سنگین ترین جنگی حالات میں اسحاق ڈار سٹیٹس مین کے طور پر دکھائی دیئے۔ داد و تحسین کیلئے مصنوعی بیانات اور لفظی جنگوں کی بجائے انہوں نے محتاط اور سنجیدہ رویہ اختیار کیا۔ ڈار کا انداز سفارتی ضوابط اور قومی وقار کا عکس تھا۔

مئی 2025 کی ایک خاموش صبح، پاکستان ایئر فورس نے نہ صرف رافیل جیسے مہنگے بھارتی خوابوں کو زمیں بوس کیا بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ برتری شور سے نہیں، تیاری، نظم اور مہارت سے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ صرف ایک فضائی جھڑپ نہ تھی یہ ایک نظریے کی شکست، اور ایک قوم کی عسکری حکمت کا اعلان تھا۔

پہلگام کے بعد کشمیر کی صدائیں دہلی میں نہیں، بلکہ جناح کے عکس میں گونجتی ہیں، کیونکہ جب شناخت کو سزا دی جائے، مسلمان ہونا جرم بن جائے تو پاکستان کا خواب ایک پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

رچرڈ گرینل کی'فری عمران خان مہم' امریکی کردار پر سوال؟ عمران رجیم میں فاشزم پر خاموش رہنےوالے گرینل کی پاکستانی اندرونی معاملات پر تنقید۔ جسے ناپسندیدہ قرار دیکر جرمنی سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا، وہی آج پاکستانی اندرونی معاملات میں دخل انداز۔ امریکی مفادات کا ایجنڈا یا کچھ اور؟

ادعاءات بوشرا بيبي بأن المملكة العربية السعودية تآمرت لإسقاط حكومة عمران خان تصل إلى حد السخافة، حيث تصور المملكة - الحليف الأكثر دوامًا لباكستان - كخصم في دراما عمران خان. من خلال إلقاء اللوم على التدخلات الخارجية والتلاعب العسكري في إخفاقاته السياسية، يعيد عمران خان كتابة إرث تميّز بشكل أكبر بالفوضى الاقتصادية بدلاً من أي إصلاحات قائمة على الشريعة المزعومة۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی سے جیل میں قید عمران خان کے حامیوں میں امید کی نئی لہر دوڑ گئی ہے مگر پاکستانی سیاست کے پیچیدہ معاملات، فوجی قیادت اور بیرونی مداخلت کے خلاف مُلک میں موجود حساسیت مضبوط رکاوٹیں ہیں۔

ایڈیٹوریل؛ شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس پاکستان کو عالمی افق پر نمایاں کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس پاکستان کیلئے خطہ میں اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک بڑا موقع پے، یہ محض ایک سربراہی اجلاس نہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی اواز ابھرنے کی علامت ہے۔

عمران خان کی پارٹی نے فلسطین پر آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کیا، کیا لیڈر سیاسی مفادات کیلئے اس قدر اہم سفارتی معاملہ بھی نظر انداز کر سکتا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان اسرائیل کے ساتھ سیاسی شطرنج کی اگلی چال تیار کر رہے ہیں۔ کیا فلسطین کی حمایت صرف اس وقت اہمیت رکھتی ہے جب عمران خان تخت پر ہوں؟
