ڈیسک

تھرسڈے ٹائمز کورٹ رپورٹر

تھرسڈے ٹائمز کے کورٹ رپورٹر کی جانب سے عدالتوں اور قانون کی خبریں۔

چیف جسٹس کا انتخاب پہلے 3 ججز میں سے ہو گا، مدتِ ملازمت 3 برس ہو گی، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ

چیف جسٹس کا انتخاب پہلے 3 ججز میں سے ہو گا، مدتِ ملازمت 3 برس ہو گی۔ سپریم کورٹ کی سطح پر آئینی بینچز بنیں گے۔ ایک چیف جسٹس نے سوموٹو کے دروازے کھول دیئے، منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھیجا گئے، ہم نے یہ سلسلہ بند کرنا ہے، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ۔

A file photo is shown of federal law minister Azam Nazeer Tarar at the 343rd session of the Senate of Pakistan on October 20, 2024 at Islamabad. — FILE/THE THURSDAY TIMES

آئینی ترمیم کیلئے عدالتی اصلاحات کے نکات پر تینوں جماعتوں کا اتفاق ہو گیا ہے، مولانا فضل الرحمٰن

آئینی ترمیم کیلئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ عدالتی اصلاحات کے نکات پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، دیگر نکات پر مزید مشاورت کی جائے گی، آئینی ترمیم میں پارلیمنٹ کو بالاتر رکھا جائے، ایسی ترامیم لائی جائیں جو اداروں میں اصلاحات کا سبب بنیں۔ مولانا فضل الرحمٰن

A file photo is shown of JUI chief Maulana Fazal-ur-Rehman. — FILE/THE THURSDAY TIMES

آئینی عدالت کا قیام اور ججز کی تقرری کا طریقہ کار ہمارے دو مطالبات ہیں، بلاول بھٹو زرداری

آئینی عدالت اور ججز کی تقرری کا طریقہ کار ہمارے مطالبات ہیں، انصاف کی فراہمی کیلئے برابری کی نمائندگی یقینی بنانا ہو گی، صوبوں سے برابری پر مصنفین بیٹھیں گے تو مسائل حل ہونگے، جو لوگ مجھے کہہ رہے ہیں پیچھے ہٹ جاؤ میں انہیں کہتا ہوں تم پیچھے ہٹ جاؤ، بلاول بھٹو زرداری۔

A file photo is shown of PPP chief Bilawal Bhutto-Zardari addressing a press conference on Feburary 13, 2024. — AFP

حکومت کے پاس آئینی ترمیم کیلئے نمبرز پورے ہیں، ہم اتفاقِ رائے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری

حکومت کے پاس آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت موجود ہے مگر حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے اتفاقِ رائے چاہتی ہے، میں بھرپور کوشش کررہا ہوں کہ اتفاقِ رائے قائم ہو لیکن اگر اتفاقِ رائے نہ ہوا تو حکومت کا یہ مؤقف درست ہو گا کہ وقت ضائع نہ کیا جائے۔

A file photo is shown of PPP chief Bilawal Bhutto-Zardari addressing the lawyers on September 19, 2024 at Islamabad. — FILE/THE THURSDAY TIMES

نواز شریف کے خلاف پاناما کیس میں عدالتی فیصلہ غلط تھا، سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ غلط تھا، گاڈ فادر والی کہانی کا کیس سے کوئی تعلق نہ تھا، اقامہ کا پٹیشن میں کہیں ذکر نہیں تھا، تنخواہ کی بنیاد پر دیئے گئے فیصلہ کا کوئی جواز نہ تھا، کیس میں بیان کیے گئے الزامات ثابت نہ ہو سکے تھے۔

A file photo is shown of former prime minister Nawaz Sharif (L) and former Chief Justice Anwar Zaheer Jamali (R) — MONTAGE/THE THURSDAY TIMES
A combined file photo is shown of Supreme Court of Pakistan. — FILE/THE THURSDAY TIMES

کسی کو بینچ میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کر سکتا، مرضی کے بینچز والے زمانے چلے گئے۔ چیف جسٹس

لوگوں کو یہاں مرضی کے بینچز کی عادت ہے لیکن وہ زمانے چلے گئے، میں کسی کو بینچ میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کر سکتا، یہاں فیصلوں کو رجسٹرار سے ختم کروایا جاتا رہا، کیا ماضی میں یہاں سینیارٹی پر بینچز بنتے رہے؟

A file photo is shown of Chief Justice of Pakistan Qazi Faez Isa. — FILE/THE THURSDAY TIMES

عدم اعتماد میں اگر ووٹ نہ گنا جائے تو پھر وزیراعظم ہٹایا ہی نہیں جا سکتا، چیف جسٹس

عدم اعتماد میں اگر ووٹ نہ گنا جائے تو پھر وزیراعظم ہٹایا ہی نہیں جا سکتا، یوں آرٹیکل 95 غیر فعال ہو جاتا ہے، ہم بطور جج کیسے فیصلہ کریں کہ ایک بندہ ضمیر کی آواز پر ووٹ دے رہا ہے یا نہیں؟ صدراتی ریفرنس پر رائے دی جا سکتی ہے فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔

A file photo is shown of Chief Justice of Pakistan Qazi Faez Isa heading a full-court bench on October 11. — FILE/THE THURSDAY TIMES

سپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں مقدمات کے فیصلے کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ چیف جسٹس

آرٹیکل 63 اے تشریح سے متعلق نظرِثانی کیس 2 سال سے زائد عرصہ سے زیرِ التواء ہے، ججز کمیٹی اجلاس میں کوئی رکن شریک نہیں ہونا چاہتا تو یہ اس کی مرضی ہے، سپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں یہاں صرف مقدمات کے فیصلے کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔

A file photo is shown of Chief Justice of Pakistan Qazi Faez Isa. — FILE/THE THURSDAY TIMES

چیف جسٹس نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں اکثریتی بینچ کے وضاحتی حکم پر جواب طلب کر لیا

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مخصوص نشستوں کے کیس کے فیصلہ سے متعلق الیکشن کمیشن اور پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستوں پر 8 ججز کی جانب سے جاری کیے گئے وضاحتی حکم پر رجسٹرار سپریم کورٹ سے 9 اہم سوالات کا جواب طلب کر لیا ہے۔

A file photo is shown of CJ-elect Qazi Faez Isa at Islamabad. — FILE/THE THURSDAY TIMES
ناشر Thursday Media International thursday.media