ڈیسک

The Editorial Desk

Views from The Thursday Times' editorial desk.

پاکستان کی سفارتی کامیابی، اور بیانیہ کی جنگ

اسلام آباد کی بڑھتی سفارتی حیثیت نے اسے بیانیے کی جنگ کا ہدف بنا دیا ہے۔ نیتن یاہو کے بیانات سے لِنڈسے گراہم کی تنقید تک اور بھارتی میڈیا کے منظم بیانیہ سے پاکستان کے اندر نئے دہشتگردانہ حملوں تک ایک نئی مخالفانہ لَہر اُبھرتی دکھائی دے رہی ہے۔

From Netanyahu’s remarks to CBS reporting, Lindsey Graham’s criticism, Indian media amplification and renewed attacks inside Pakistan, the pattern is no longer easy to dismiss. Islamabad’s new diplomatic visibility has triggered a sharper contest over narrative, credibility and power. — MICHAEL MCCALL FOR THE THURSDAY TIMES

عمران خان کی افغان پالیسی: خود فریبی کی انتہا اور تباہی کی داستان

عمران خان کی افغان پالیسی نے قومی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ سفارتی احتیاط اور ریاستی حکمت کے بجائے انہوں نے قومی مفاد کو ذاتی مقبولیت کے تابع کر دیا، یوں وہ تمام رکاوٹیں کمزور ہو گئیں جو دشمن کی واپسی کے راستے میں حائل تھیں۔ آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ پالیسی کی اصلاح نہیں بلکہ تاخیر سے شروع ہونے والا ایک مشکل اور ناگزیر ریسکیو مشن ہے۔

The posture of the current leadership deserves to be read not as an authoritarian reflex, but as a necessary reassertion of adulthood. — MICHAEL MCCALL FOR THE THURSDAY TIMES

جنگ کی چنگاریوں میں مؤثر سفارت کاری

جنگی ڈھول کی تھاپ پر نشے میں دھت دنیا کے اندر خاموش مصلحت اور غیر معمولی اعصاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اقوامِ متحدہ میں مؤثر، مضبوط اور بااعتماد انداز میں پاکستان کا مؤقف اجاگر کر دیا ہے۔

Bilawal didn’t cast India as the eternal villain—but demanded that its actions be seen without varnish. In an age of digital disinformation, where narratives spin faster than missiles travel, that clarity is revolutionary. — MICHAEL MCCALL FOR THE THURSDAY TIMES

اسحاق ڈار اور مؤثر ترین خاموش سفارتکاری

اکیسویں صدی کے سنگین ترین جنگی حالات میں اسحاق ڈار سٹیٹس مین کے طور پر دکھائی دیئے۔ داد و تحسین کیلئے مصنوعی بیانات اور لفظی جنگوں کی بجائے انہوں نے محتاط اور سنجیدہ رویہ اختیار کیا۔ ڈار کا انداز سفارتی ضوابط اور قومی وقار کا عکس تھا۔

While jets roared overhead, Ishaq Dar reached for the world’s ear, not its throat. — MICHAEL MCCALL FOR THE THURSDAY TIMES

پاک فضائیہ: فضاؤں کی بے تاج بادشاہ، جب دشمن کا غرور زمیں بوس ہوا

مئی 2025 کی ایک خاموش صبح، پاکستان ایئر فورس نے نہ صرف رافیل جیسے مہنگے بھارتی خوابوں کو زمیں بوس کیا بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ برتری شور سے نہیں، تیاری، نظم اور مہارت سے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ صرف ایک فضائی جھڑپ نہ تھی یہ ایک نظریے کی شکست، اور ایک قوم کی عسکری حکمت کا اعلان تھا۔

The PAF’s recent engagement with the Indian Air Force—what many are calling a “cold shock over warm borders”—was no accident. — MICHAEL MCCALL FOR THE THURSDAY TIMES

پہلگام واقعہ کے بعد، محمد علی جناح کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں

پہلگام کے بعد کشمیر کی صدائیں دہلی میں نہیں، بلکہ جناح کے عکس میں گونجتی ہیں، کیونکہ جب شناخت کو سزا دی جائے، مسلمان ہونا جرم بن جائے تو پاکستان کا خواب ایک پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

After Pahalgam, the cries of Kashmir echo not in Delhi, but in Jinnah’s silhouette—because when identity is punished, the dream of Pakistan becomes a refuge, not a threat. — MICHAEL MCCALL FOR THE THURSDAY TIMES

رچرڈ گرینل کی فری عمران خان مہم اورپاکستانی اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت

رچرڈ گرینل کی'فری عمران خان مہم' امریکی کردار پر سوال؟ عمران رجیم میں فاشزم پر خاموش رہنےوالے گرینل کی پاکستانی اندرونی معاملات پر تنقید۔ جسے ناپسندیدہ قرار دیکر جرمنی سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا، وہی آج پاکستانی اندرونی معاملات میں دخل انداز۔ امریکی مفادات کا ایجنڈا یا کچھ اور؟

نظرية المؤامرة السعودية لعمران خان هي مجرد حكاية أخرى عن اليأس السياسي وإعادة كتابة التاريخ

ادعاءات بوشرا بيبي بأن المملكة العربية السعودية تآمرت لإسقاط حكومة عمران خان تصل إلى حد السخافة، حيث تصور المملكة - الحليف الأكثر دوامًا لباكستان - كخصم في دراما عمران خان. من خلال إلقاء اللوم على التدخلات الخارجية والتلاعب العسكري في إخفاقاته السياسية، يعيد عمران خان كتابة إرث تميّز بشكل أكبر بالفوضى الاقتصادية بدلاً من أي إصلاحات قائمة على الشريعة المزعومة۔

A montage is shown of incarcerated former Pakistani prime minister Imran Khan (R), Muhammad bin Salman, the Crown Prince of Saudi Arabia (C) and the former Pakistani first lady (L). — MONTAGE/THE THURSDAY TIMES

کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی عمران خان کی رہائی کا سبب بن سکتی ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی سے جیل میں قید عمران خان کے حامیوں میں امید کی نئی لہر دوڑ گئی ہے مگر پاکستانی سیاست کے پیچیدہ معاملات، فوجی قیادت اور بیرونی مداخلت کے خلاف مُلک میں موجود حساسیت مضبوط رکاوٹیں ہیں۔

Trump’s re-election fuels Khan supporters’ hope for freedom. — Michael Reynolds/Pool via Bloomberg

پاکستان کی عالمی افق پر واپسی

ایڈیٹوریل؛ شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس پاکستان کو عالمی افق پر نمایاں کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس پاکستان کیلئے خطہ میں اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک بڑا موقع پے، یہ محض ایک سربراہی اجلاس نہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی اواز ابھرنے کی علامت ہے۔

A montage is shown of Pakistani prime minister Shehbaz Sharif meeting with various global world heads of State. — FILE/THE THURSDAY TIMES