The country's political landscape presents a strange picture of stagnation. All the players, political and non-political, seem to have become prisoners of their own narratives. No one will tolerate a change in the situation. Every player on the board is bound by what he has said. No one is changing his position. No one wants to make a "U-turn" on his narrative. There is no harm in asking how this political deadlock came about and how to escape it. What solution does the history of the world suggest at such difficult junctures? And which path does our own history point to?
The present government is badly stuck in its refrain of "corruption, corruption". However many stories of corruption there may be in its own ranks, it cannot stop accusing its opponents of corruption and calling them thieves, dacoits and plunderers, because that is precisely what it won its votes on. It told the nation that if the supreme ruler is not corrupt, the country progresses, institutions grow stronger and corruption is eliminated. Now, according to Khan Sahib's courtiers, Khan Sahib is not corrupt, so who knows why the country is moving towards decline rather than progress. Stories of corruption increase by the day. Every institution is being brought low. The government is unable to accept this reality because it has only the "corruption snake oil" to sell. The moment it stops selling this snake oil, its own "shop" will close. So, whatever the circumstances, for as long as the present government remains in place, the slogan of accountability for corruption and plunder will remain on its tongue. Even if he wished to, Imran Khan could not escape this slogan. He can do nothing but fabricate allegations.
مسلم لیگ ن “ووٹ کو عزت” دینے کے حصار میں قید ہے۔ پورے ملک کے لوگوں نے اس نعرے پر لبیک کہا۔ جماعت چاہے کوئی بھی ہو جمہوری سوچ کے سیاسی کارکن اب ووٹ کو عزت دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اب ہر اپوزیشن لیڈر کی ایک ایک حرکت کو اسی نظر سے جانچا جا رہا ہے۔ کسی بیان میں اگر ووٹ کی عزت کے بیانیئے سے ذرا سا بھی انحراف ہوتا ہے تو عوام اس شخصیت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں۔ عوام میں جمہوری سوچ پیدا کرنا ایک کار دگر ہے مگر اس جمہوری سوچ کو قائم رکھنا اور خود اس میزان پر پورا اترنا اس سے بھی مشکل کام ہے۔ اب مسلم لیگ ن کا ووٹر ووٹ کو عزت دینے کے درپے ہے اور اس کے لیڈران اگر چاہیں بھی تو اس نظریئے سے انحراف نہیں کر سکتے۔ کسی ڈیل کی طرف نہیں بڑھ سکتے۔
پیپلز پارٹی، سندھ حکومت کے گرداب میں ہے۔ انکی ساری سیاست ، ساری جدوجہد سندھ حکومت تک محدود ہے۔ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم چھوڑ سکتی ہے ، مخلص ساتھیوں کو دغا دے سکتی ہے ، اپنے نظریئے سے ہٹ سکتی ہے مگر سندھ کی حکومت نہیں چھوڑ سکتی۔اس لیئے کہ انہیں علم ہے کہ اب انکے ہاتھ میں اسکے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ پنجاب میں وہ اپنی منزلت کھو چکے ہیں۔ یہ پارٹی اب قومی پارٹی نہیں رہی۔ اب انکی سر توڑ کوشش ہے کہ اس کو صوبائی پارٹی تو رہنے دیا جائے ۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر اس پارٹی سے صوبائی پارٹی کا ٹائیٹل بھی چھن گیا تو یہ سندھ کی دیہی علاقے کی پارٹی رہ جائے گی۔ اگلے الیکشن میں خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گی۔ اب جو ہاتھ میں ہے وہی بچت ہے، وہی سیاست ہے۔ اس لیئے پیپلز پارٹی سندھ حکومت سے کنارہ کش نہیں ہو سکتی چاہے اس کے لیئے بھٹو کے نظریئے کی موت ہو جائے۔ چاہے اس کے لیئے میثاق جمہوریت کا قتل ہو جائے۔
مولانا فضل الرحمن اور دیگر چھوٹی جماعتیں بڑی پارٹیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ وہ جماعتیں ہیں جو قوت رکھنے کے باوجود کوئی قومی سطح کی تبدیلی لانے سے قاصر ہیں۔ انکی پوزیشن “تیل دیکھو اور تیل کی دھار” دیکھنے تک محدود ہے۔ انکی توقعات ملک کی بڑی پارٹیوں سے ہے۔ انہی کے بیانیئے پر انکی سیاست کا انحصار ہے۔ یہ سب منتظر ہے ایسی صورت حال کی جہاں انکی اپنی اساس بھی قائم رہے، ملکی سیاست کے دھارے کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوٹے اور جمہوریت کے نام پر بٹا بھی نہ لگے۔
اسٹیبلشمنٹ اس حکومت کے ساتھ تعاون کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ انہیں ایک ٹوکری میں سب انڈے ڈالنے کی سزا مل رہی ہے۔ چاہے اب وہ ملکی صورت حال پر تاسف سے ہاتھ ملیں چاہے اس ابتری پر دکھ کا اظہار کریں اب وہ اس حکومت کی پشت پناہی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ اس مقام سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ اب مثبت رپورٹنگ سے انحراف ممکن نہیں۔ سب کچھ کنٹرول کر کے بھی ملک کو تباہی کے دھانے تک پہنچانے کا الزام اب ان کےسر ہے۔ “چند لوگ” اب اس حکومت کی طرف داری سے ہاتھ کھینچتے ہیں تو کئی ہاتھ انکے گریبان تک پہنچتے ہیں ۔ کئی سوال انکی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ اس لیئے” ادارے” اس حکومت کے ساتھ تعاون کے گرداب میں پھنسے ہیں۔ اس سے مفر ان کے لیئے ممکن نہیں ہے۔
جب سب فریق اپنے، اپنے بیانیئے کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہوں ۔ کوئی بھی جنبش کرنے پر راضی نہ ہو تو ایسے حالات میں صرف بہادری کی کوئی مثال ہی صورت حال کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ سیاسی جمود کو سیاسی جد وجہد میں تبدیل کرنا بہت کٹھن کام ہے۔ اب واحد حل یہ ہے کوئی سیاسی فریق ایسی دلیری سے کام لے جو اس صورت حال کو پلٹ کر رکھ دے۔ ابھی تک کی صورت حال میں جرات کا یہ سہرا نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کے سر سجتا ہے۔ اس لیئے کہ وہ جس نظریئے پر چل رہے ہیں اس کے لیئے شجاعت بھی درکار ہے اور سرمدی ولولہ بھی ۔ دہائِوں کے جبر و استبداد کے خلاف آواز اٹھانا سہل نہیں۔ لیکن دلیری کی یہ داستان صرف ان تین لوگوں تک موقوف نہیں ۔ اس داستان شجاعت میں پاکستان کے صحافیوں کے زخم خوردہ بدن ، جسٹس وقار سیٹھ کے دلیرانہ فیصلے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی شجاعت، حاصل بزنجو کی ہمت، پرویز رشید کی جمہوری سوچ، فرحت اللہ بابر کا استدلال ، رضا ربانی کے دلائل، مشاہد اللہ خان مرحوم کا دلیرانہ جذبہ اور سینیٹر لالا عثمان کاکڑ کے جنازے میں شریک لوگوں کی انکھوں سے گرتے اشک بھی شامل ہیں۔
یاد رکھیں ۔ خوف اور جبر کے ماحول میں شجیع لوگوں کی بہادری ہی قوموں کو گرادب سے نکالتی ہے۔ انہیں جمہوریت کی راہ پر ڈالتی ہے۔ سیاسی جمود کو سیاسی جدوجہد میں ڈھالتی ہے۔



