علیم خان کا عمران خان کو کھلا چیلنج

عمران خان صاحب آپ میرے پاس میرے گھر اپنے جلسے کیلئے پیسے مانگنے آتے رہے ہیں میں آپکے گھر نہیں گیا۔

A combination file photo shows former minister Aleem Khan with former Prime Minister Imran Khan.
A combination file photo shows former minister Aleem Khan with former Prime Minister Imran Khan.

عمران خان کے سابق دست راست علیم خان کا کہنا ہے کہ عمران خان انکی طرف انگلی اٹھانے سے قبل اپنے گریبان میں جھانک لیں توبہتر ہوگا انکا کہنا تھا کہ عمران خان تین سو ایکٹر زمین کی بات کررہے ہیں میں انکا بتانا چاہتا ہوں کہ میرے پاس تین سو نہیں بالکہ اس سوسائـٹی میں تین ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین موجود ہے۔

علیم خان کا کہنا تھا کہ جس زمین کی عمران خان بات کررہے ہیں وہ روڈا کے انڈر آئی ہے جسکو عمران خان نے بنوائی ہے اور وہ زمین اپنے من پسند ڈویلپرز کو بانٹی گئی اس میں وہ ڈویلپر شامل ہے جس کے پاس فرح گوگی دوبئی مقیم رہیں جسکے جہاز میں پھرتی رہیں اور انکے قریبی روابط کیوجہ سے انکا عمران خان کیساتھ تعلق بنا۔

علیم خان نے کہا کہ عمران خان صاحب جواب دیں کہ اگر روڈا جو آپ نے بنائی اسکے تحت آپکے پلازے آپکے شاپنگ مال آپکا گالف کلب اور گھر تو بن سکتے ہیں لیکن علیم خان کی سوسائیٹی  کیوں نہیں بن سکتی۔

علیم خان نے اس موقع پر انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب آپ میرے پاس میرے گھر اپنے جلسے کیلئے پیسے مانگنے آئے تھے میں آپکے گھر نہیں گیا تھا انہوں نے عمران خان کوچیلنج دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب آئیں جہاں چاہیں جس چینل پر چاہیں جتنے گھنٹے مرضی چاہیں میرے ساتھ اور جہانگیر ترین کیساتھ بیٹھ جائیں اور اگر آپ چاہتے ہیں تو پھر میں بھی منہ کھولتا ہوں اور پھر تینوں سچ بولتے ہیں۔

انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کے بقول میں غدار ہوں تو میں بتاتا چلوں کہ  تو آپ بھی غدار ہیں میں  آپ کے ساتھ آپکے گھر پر امریکی یورپین اور برطانوی سفیروں کو ملتا رہا ہوں اگر میں غدار ہوا تو پھر اسکے ساتھ آپ بھی غدار ہیں جو انکو ملتے رہے ہیں۔

∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔