میری ”میں“ سب سے بڑی ہے
میری ”میں“ سب سے اونچی ہے
میری ”میں“ کے آگے کچھ نہیں
میری ”میں“ نہیں تو کچھ بھی نہیں
اگر میں نہیں تو کوئی بھی نہیں اگر میں نہیں تو کچھ نہیں بچے گا نہ یہ دھرتی نہ اس دھرتی کے باسی نہ اس دھرتی کے محافظ کیوں کہ میری ”میں“ سب سے بڑی ہے۔
میں نے بے شک اس دھرتی کیساتھ دھوکا کیا میں نے بے شک اپنے محسنوں کیساتھ دغا کیا میں نے بے شک دھرتی کے باسیوں کو رلایا میں نے بے شک دھرتی کے باسیوں کو تڑپایا میں نے بے شک دھرتی کے باسیوں کا چین چھینا میں نے بے شک دھرتی کے باسیوں کا جینا حرام کیا چاہے کچھ بھی کیا لیکن حق پھر بھی میرا ہی بنتا ہے ہر حال میں میرا ہی بنتا ہے کیونکہ میری ”میں“ سب سے بڑی ہے۔
میری ”میں“ وہ ہے جو اپنی ذات کا دن رات طواف کرتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جو اپنی ذات کی پوجا کرتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جودن رات اپنی میں کی مالا جپتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جواپنی میں کے گن گاتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جوخود فریبی کا شکار ہے میری ”میں“ وہ ہے جواپنی ذات کوعقل کل سمجھتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جواپنے آپکو طاقت کا منبہ گردانتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جس کی صبح بھی ”میں“ سے ہوتی ہے اور شام بھی میں سے ہی ہوتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جو میں کے نشے میں بدمست ہوچکی ہے میری ”میں“ وہ ہے جس نے اپنی ”میں“ کی میں سے دل وجان سے محبت کرتی ہے میری میں کے آگے دنیا کی کسی چیز کی کوئی حقیقت نہیں ہے میری ”میں“ ہی میری کل کائنات ہے میری ”میں“ وہ ہے جسکے آگے کسی رشتے کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ میری ”میں“ سب سے اونچی سب سے بڑی ہے۔
اگر میری ”میں“ کی تسکین نہ ہوئی یا نہ کی گئی تو میں اپنی ”میں“ کی خاطر کسی حد تک بھی جاسکتا ہوں چاہے اسکے لیے مجھے اس دھرتی اور اس دھرتی کے باسیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے کوئی حرکت کوئی چال ہی کیوں نہ چلنا پڑے چاہے چاہے مجھے دھرتی کے محافظوں کو سرعام رسوا کرنا پڑے چاہے کوئی آفت آئے کوئی پہاڑ ٹوٹے کوئی آندھی آئے کوئی طوفان آئے کوئی پہاڑ ٹوٹے یا میری ”میں“ ہی کو کوئی آفت لانی پڑے اپنی “میں” کی تسکین کیلئے ہر کام ہر حربہ ہر حرکت چاہے وہ جائز ہو یا ناجائز سب چلے گا کیونکہ۔
میری ”میں“ سب سے بڑی ہے
میری ”میں“ سب سے اونچی ہے
میری ”میں“ سے آگے کچھ نہیں
میری ”میں“ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔
∎



