پاکستانی فوج کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ فوج پچھلے ستر برس سے سیاست اور سیاسی معاملات میں ملوث رہی ہے جو کہ ایک غیر آئینی اقدام تھا اور یہی وجہ ہے کہ فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے
جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ اب فوج نے فیصلہ کیا ہے کہ فوج آئیندہ کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کریگی اس پر ہم سختی سے کاربند ہیں اور آئیندہ بھی رہیں گے
آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ فوج کے آئینی کردارکا خیر مقدم کرنے کی بجائے کچھ حلقوں نے فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انتہائی غیر مناسب اور غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا گیا انہوں نے کہا کہ فوج پر تنقید کرنا عوام اور سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن الفاظ کے چناو اور استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے
آرمی چیف نے کہا کہ ایک جعلی اور جھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی اور اب اسی جھوٹے بیانیے سے راہ نجات اختیار کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ فوج کی سینئیر لیڈرشپ کو غیر مناسب القابات سے نوازا گیا انکا کہنا تھا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایک بیرونی سازش ہو اور فوج ملک میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہیگی ایسا ناممکن ہے بالکہ گناہ کبیرہ ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ فوج اور عوام میں ایسا کر کے دراڑ ڈال دیں گے تو یہ ممکن نہیں یہ بات ذہن نشین کرلیں صبر کی ایک حد ہوتی ہے
جنرل باجوہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے اور کوئی بھی ایک جماعت اسکو اس معاشی بحران سے نہیں نکال سکتی اس سب کیلئے سیاسی استحکام لازمی ہے اب وقت آگیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرزاپنی ذاتی انا کو ایک طرف رکھ کر آگے بڑھیں اور پاکستان کو اس مشکل سے نکالیں
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اداروں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سب سے غلطیاں ہوئی ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے
∎



