وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت سے ہمیں ورثے میں ایک منقسم اور معاشی طور پر بدحال ڈیفالٹ کے دہانے پرملک ملا ہے
بلاول بھٹو نے کہا کہ پچھلی حکومت کی طرف سے ملنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ پورا ملک متحد ہوکر ان چیلجز سے نبٹے کیونکہ کوئی ایک سیاسی جماعت یا فرد تنہا اس صورتحال سے نبٹ نہیں سکتا۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ ہماری اتحادی حکومت پاکستان کے چاروں کونوں کی نمائندہ حکومت ہے ہم مل کر پاکستانی عوام کے مسائل کے حل کیلئے کام کررہے ہیں اور ہم ان شا اللہ اس مقصد میں کامیاب ہونگے
سابق وزیراعظم عمران خان کے ‘غیر ملکی سازش’ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو سازشی نظریات کی بجائے اپنے لوگوں سے سچ بولنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی وزیراعظم کو نہ ہی عدالتی حکم اور نہ ہی فوجی بغاوت کے ذریعہ نکالا گیا بالکہ ایک آئینی طریقہ کار استعمال کرکے اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹایا گیا۔
قبل از وقت انتخابات کے امکان کے بارے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قبل ازوقت انخابات جمہوریت کو آگے بڑھانے کی بجائے عمران خان کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں گے اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے۔
کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر ایک نامکمل ایجنڈا ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حکومت میں نہ صرف کشمیر بالکہ پورے بھارت میں مسلمانوں کیلئے جگہ کم ہوتی جارہی ہے
ایک سوال کے جواب میں کہ عمران خان کہتے ہیں کہ شہباز شریف مودی کے اچھے دوست ہیں تو بلاول بھٹو نے جواب دیا کہ یہ تو ثابت ہوچکا ہے کہ عمران خان زیادہ تر جو باتیں کرتے ہیں وہ درست نہیں ہوتیں
∎



