دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگانے والا خود سب سے بڑا کرپٹ نکلا، میاں نواز شریف

عمران خان کے خلاف اب صرف الزامات نہیں رہے بالکہ ثبوت سامنے آئے ہیں اور ابھی تو بہت سے ثبوت سامنے آنے ہیں اور جو کچھ سامنے آنے جارہا ہے اسکو دیکھ کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجائینگے

A file photo is shown of former prime minister Nawaz Sharif speaking at a conference in Berlin.
A file photo is shown of former prime minister Nawaz Sharif speaking at a conference in Berlin.

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان اورشہزاد اکبر کے کہنے پر ڈیلی میل نے جو جھوٹے الزامات شہباز شریف پر لگائے اس پر انہوں نے معافی مانگ لی ہے

میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ پہلے نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز شریف کو کلین چٹ دی اوراب ڈیلی میل نے ان سے معافی مانگ لی ہے اور یہ سب کچھ برطانیہ میں ہوا ہے جہاں ن لیگ کی حکومت نہیں ہے یہ سب کچھ ایک آزاد ملک میں ہوا ہے جو اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ شہباز شریف بے گناہ ہیں

قائد ن لیگ نے کہا کہ اب عمران خان انکے ساتھیوں اور انکی جماعت کو اپنا سر شرم سے جھکا لینا چاہیے کہ انہوں نے اپنے مخالفین کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور الٹا وہ خود جھوٹے ثابت ہوگئے ہیں

نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ ہمارے حق میں ثبوت پاکستان کے اندر ہی موجود ہیں جو کچھ جسٹس شوکت صدیقی نے کہا جو کچھ جج ارشد ملک کہہ گئے خود ثاقب نثار کی آڈیو لیکس ہماری بے گناہی کا واضع ثبوت ہیں اور ابھی جو مریم نواز کے حق میں فیصلہ آیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ انکے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے

عمران خان کے خلاف اب صرف الزامات نہیں رہے بالکہ ثبوت سامنے آئے ہیں اور ابھی تو بہت سے ثبوت سامنے آنے ہیں اور جو کچھ سامنے آنے جارہا ہے اسکو دیکھ کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجائینگے

نوازشریف نے کہا کہ کوئی ایک منصوبہ بتا دیں جس کی بنیاد عمران خان نے رکھی ہواور اگر ایک میٹرو بس پختونخواہ میں بنائی اس میں بھی اربوں کی کرپشن سامنے آگئی اور اس پر نیب کا کیس بنا تو اسے ختم کروا دیا گیا

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جو شخص خود کرپشن میں سر سے لیکر پاوں تک ملوث ہواور وہ اپنے مخالفین پر کرپشن کے الزامات لگائے اور انہی مخالفین کو باہر کی حکومتوں سے کلین چٹ مل رہی ہے اوراخبارات معافی مانگ رہے ہیں

قائد ن لیگ نے کہا کہ ہمیں تو مفت میں ہی جلاوطنی جیلیں بھگتنا پڑیں ہائی جیکنگ کے کیس بھگتنا پڑیں جیلیں بھگتنی پڑیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کا بہانہ بنا کر مجھے وزارت عظمی سے ڈسکوالیفائی کردیا گیا اور یہ سب کچھ کرکے پاکستان کا برا حشر کردیا گیا

∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔