اگر 2017 والا تسلسل برقرار رہتا تو جی 20 اجلاس بھارت کی بجائے پاکستان میں ہوتا، نواز شریف

نواز شریف نے لندن میں اپنے بیٹے حسن نواز کے دفتر آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 2017 والا تسلسل برقرار رہتا تو انڈیا میں ہونے والا جی 20 کا اجلاس پاکستان میں ہو رہا ہوتا۔

رائے دیں
U.S. president Joe Biden (L) and former Pakistani prime minister Nawaz Sharif (R) are shown at New York in 2014. — FILE/THE THURSDAY TIMES
U.S. president Joe Biden (L) and former Pakistani prime minister Nawaz Sharif (R) are shown at New York in 2014. — FILE/THE THURSDAY TIMES
یہ تحریر سنیںاگر 2017 والا تسلسل برقرار رہتا تو جی 20 اجلاس بھارت کی بجائے پاکستان میں ہوتا، نواز شریف1 منٹ · آلے کی آواز0:00 / 1:12

لندن—پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف نے لندن میں اپنے بیٹے حسن نواز کے دفتر آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 2017 والا تسلسل برقرار رہتا تو انڈیا میں ہونے والا جی 20 کا اجلاس پاکستان میں ہو رہا ہوتا۔

محترمہ کلثوم نواز مرحومہ کے متعلق سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ کلثوم نواز کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھا کریں۔

تین بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہونے والے میاں نواز شریف سے صحافی نے سوال پوچھا کہ جی 20 اجلاس میں پاکستان کیوں شامل نہیں ہے؟
نواز شریف نے جواب دیا کہ اگر 2017 والا تسلسل برقرار رہتا تو یہ اجلاس پاکستان میں ہو رہا ہوتا یا ہونے والا ہوتا۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media