سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد کر دیں

سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ درست قرار دے دیا، فل کورٹ میں شامل دس ججز نے ایکٹ کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ پانچ ججز نے مخالفت کی۔ ایکٹ کے ماضی سے اطلاق کی شق سات آٹھ کے تناسب سے مسترد قرار دے دی گئی۔

رائے دیں
A file photo is shown of Chief Justice of Pakistan Qazi Faez Isa. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of Chief Justice of Pakistan Qazi Faez Isa. — FILE/THE THURSDAY TIMES
یہ تحریر سنیںسپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد کر دیں1 منٹ · آلے کی آواز0:00 / 1:27

اسلام آباد—سپریم کورٹ نے “پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ” کے خلاف درخواستیں مسترد کر دیں، ایکٹ کے حق میں دس پانچ کے تناسب سے اکثریتی فیصلہ سنا دیا گیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے “سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ” کے خلاف درخواستوں پر چار فل کورٹ سماعتوں کے بعد فیصلہ سنا دیا ہے جس کے مطابق یہ ایکٹ دس پانچ کے تناسب سے منظور کر لیا گیا ہے، فیصلہ کے بعد اب “سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ” نافذ ہو گیا ہے۔

فیصلہ کے مطابق فل کورٹ میں شامل دس ججز نے “سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ” کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ مخالفت کرنے والے پانچ ججز میں جسٹس منیب اختر، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس شاہد وحید، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ میں ایکٹ کے ماضی سے اطلاق کی شق سات آٹھ کے تناسب سے مسترد کر دی ہے یعنی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا اطلاق ماضی کے فیصلوں پر نہیں ہو سکے گا۔

تھرسڈے ٹائمز کورٹ رپورٹر

تھرسڈے ٹائمز کے کورٹ رپورٹر کی جانب سے عدالتوں اور قانون کی خبریں۔

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media