بدء جلسة الاستماع في المحكمة العليا بإسلام آباد بشأن طلب الإفراج الوقائي بكفالة عن نواز شريف

بدأت في المحكمة العليا بإسلام آباد جلسة النظر في الطلب الذي قدّمه محامو الزعيم الأعلى لحزب الرابطة الإسلامية الباكستانية (ن) (PML-N) ميان نواز شريف للإفراج عنه بكفالة وقائية في قضيتي إيفين فيلد والعزيزية.

جارٍ الترجمة… 1 / 3 اقرأ النص الأصلي

A combined photo is shown of former prime minister Nawaz Sharif against a backdrop of Islamabad High Court. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A combined photo is shown of former prime minister Nawaz Sharif against a backdrop of Islamabad High Court. — FILE/THE THURSDAY TIMES
یہ تحریر سنیںبدء جلسة الاستماع في المحكمة العليا بإسلام آباد بشأن طلب الإفراج الوقائي بكفالة عن نواز شريف2 منٹ · آلے کی آواز0:00 / 1:40

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز)— پاکستان مسلم لیگ ن کے سپریم لیڈر میاں نواز شریف کے وکلاء کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس میں ان کی حفاظتی ضمانت کیلئے دائر درخواست پر سماعت شروع ہو گئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف کی عدالت کے روبرو سرنڈر کیلئے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے، نواز شریف تمام مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں، عدالت تک پہنچنے کیلئے ان کی گرفتاری سے روکا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم کی حفاظتی ضمانت کیلئے دائر درخواست پر سماعت کیلئے دو رکنی بینچ تشکیل دیا گیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق بینچ کی سربراہی کر رہے ہیں جبکہ جسٹس میاں گل حسن بھی بینچ میں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف چار برس وطن سے دور رہنے کے بعد 21 اکتوبر کو پاکستان واپس پہنچ رہے ہیں، پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے اپنے قائد کے شاندار استقبال کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ نواز شریف مینارِ پاکستان پر جلسے سے خطاب بھی کریں گے۔

تھرسڈے ٹائمز کورٹ رپورٹر

تھرسڈے ٹائمز کے کورٹ رپورٹر کی جانب سے عدالتوں اور قانون کی خبریں۔

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media