سان فرانسسکو (تھرسڈے ٹائمز) — چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی اپنے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کی ڈرامائی برطرفی کے بعد قیادت کے بحران میں گھر گئی ہے۔
اوپن اے آئی کے بورڈ کی جانب سے سیم آلٹمین کی اچانک برطرفی، اور اس کے بعد شریک بانی گریگ بروک مین اور تین سینیئر محققین کے استعفوں نے کمپنی کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ پیدا کر دیا ہے۔ اس بحران کا آغاز جمعرات کو اس وقت ہوا جب آلٹمین کو اوپن اے آئی کے چیف سائنٹسٹ ایلیا سٹسکیور کی طرف سے اگلے روز طے شدہ کال کے بارے میں پیغام موصول ہوا، جس کے نتیجے میں آلٹمین کی برطرفی کا اعلان کیا گیا۔
اوپن اے آئی میں بڑی سرمایہ کار کمپنی مائیکروسافٹ نے اس ہلچل پر فوری ردعمل دیا۔ چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا نے آلٹمین کی برطرفی کے بعد بیان جاری کیا، اور بعد ازاں کمپنی نے آلٹمین، بروک مین اور اوپن اے آئی کے دیگر عملے کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تاکہ وہ اے آئی کی ایک نئی تحقیقی ٹیم کی قیادت کریں۔ یہ حکمتِ عملی اے آئی میں مائیکروسافٹ کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور بہترین صلاحیتوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
بحران اس وقت مزید شدید ہو گیا جب اوپن اے آئی کے تقریباً 770 ملازمین میں سے قریباً 500 نے، جن میں سٹسکیور بھی شامل تھے، ایک خط پر دستخط کیے جس میں دھمکی دی گئی کہ اگر بورڈ مستعفی نہ ہوا اور آلٹمین کو دوبارہ مقرر نہ کیا گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ دستخط کنندگان کی تعداد بعد میں 650 سے تجاوز کر گئی۔ ملازمین کی یہ بڑے پیمانے پر بغاوت کمپنی کے اندر طاقت کے توازن میں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے، جہاں افرادی قوت کی رائے کارپوریٹ فیصلوں پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔
ایک قابلِ ذکر موڑ یہ آیا کہ تھرائیو کیپیٹل جیسی کمپنیوں کی قیادت میں سرمایہ کاروں نے اوپن اے آئی کے بورڈ پر آلٹمین کو بحال کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ اطلاعات کے مطابق بورڈ اصولی طور پر مستعفی ہونے اور آلٹمین اور بروک مین کو واپس آنے کی اجازت دینے پر راضی ہو گیا۔ تاہم صورتحال غیر یقینی رہی، کیونکہ آلٹمین واپسی کے بارے میں متذبذب تھے اور انہوں نے نظم و نسق میں نمایاں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔
جب نئے مستقل چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کی تلاش جاری ہے، اوپن اے آئی نے ویڈیو سٹریمنگ سائٹ ٹوئچ کے شریک بانی ایمیٹ شیئر کو عبوری CEO مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جاری مذاکرات اور آلٹمین کو بحال کرنے کے معاملے پر بورڈ کی مزاحمت کے دوران کیا گیا۔
اوپن اے آئی میں پیش آنے والے واقعات سے مصنوعی ذہانت کی ترقی کے مستقبل، اخلاقی پہلوؤں اور ٹیکنالوجی کی صنعت میں کارپوریٹ نظم و نسق پر وسیع تر بحث چھڑ گئی ہے۔ اس انتشار سے صنعت کے اندر باصلاحیت افراد کے ایک ادارے سے دوسرے میں جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، اور سیلز فورس سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں اوپن اے آئی کے افرادی وسائل کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔



