جج کے مستعفی ہونے سے اس کے خلاف جاری کارروائی ختم نہیں ہو گی، سپریم کورٹ

کسی جج کے خلاف ایک بار کارروائی شروع ہو جائے تو پھر اس جج کے مستعفی ہونے سے کارروائی ختم نہیں ہو گی، ریٹائرڈ ججز کے خلاف زیرِ التواء شکایات پر کارروائی کرنا یا نہ کرنا سپریم جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہے، سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سنا دیا۔

A file photo is shown of the Supreme Court of Pakistan at Islamabad.
A file photo is shown of the Supreme Court of Pakistan at Islamabad.

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی سے متعلق کیس کا مختصر فیصلہ سنا دیا، فیصلہ کے مطابق کسی جج کے خلاف ایک بار کارروائی شروع ہو جائے تو پھر جج کے مستعفی ہونے سے کارروائی ختم نہیں ہو گی، مستعفی ججز کے خلاف کارروائی جاری رکھنا جوڈیشل کونسل کا اختیار ہو گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی سے متعلق کیس کا فیصلہ چار ایک کی اکثریت سے سنایا گیا ہے جبکہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے اپیل زائد المیعاد ہونے تک فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے مختصر فیصلہ میں کہا ہے کہ جج کے خلاف ایک بار کارروائی شروع ہو جائے تو پھر جج کے مستعفی ہونے سے کارروائی ختم نہیں ہو گی، مستعفی ججز کے خلاف کارروائی جاری رکھنا سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار ہو گا، ریٹائرڈ ججز کے خلاف زیرِ التواء شکایات پر کارروائی کرنا یا نہ کرنا سپریم جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہے۔

ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی سے متعلق کیس کا مختصر فیصلہ سنا دیا گیا ہے جبکہ جسٹس امین الدین نے کہا ہے کہ تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔∎

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔