اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — روس نے اسلام آباد میں دونوں ممالک کے نائب وزرائے اعظم کی ایک اہم ملاقات کے دوران بڑی ترقی پذیر معیشتوں کے گروپ برکس میں شمولیت کی پاکستانی کوشش کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ روسی نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک نے اسلام آباد کے سرکاری دورے کے دوران ماسکو کی حمایت کی تصدیق کی، جہاں انہوں نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ملک کی طاقتور عسکری قیادت سمیت پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
24 کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک پاکستان نے 2023 میں برکس کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی، جس کا مقصد بڑھتی ہوئی کثیر قطبی دنیا میں خود کو دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔ برکس گروپ، جسے ابتدا میں 2006 میں برازیل، روس، بھارت اور چین نے قائم کیا تھا، اس کے بعد اپنی رکنیت میں توسیع کر چکا ہے، جس کے تحت 2010 میں جنوبی افریقہ اور حال ہی میں ایران، مصر، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہوئے۔
اس گروپ نے خود کو مغرب کے زیر اثر عالمی معاشی نظام کے متبادل کے طور پر پیش کیا ہے، جس کی توجہ عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر ہے۔ اس لحاظ سے برکس میں پاکستان کی شمولیت عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرے گی اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔
اسلام آباد میں مشترکہ ٹیلی وژن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اوورچک نے پاکستان کی رکنیت کی کوشش کے لیے روس کی منظوری کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ کھڑے ہو کر انہوں نے کہا، "بالکل، ہم برکس اتحاد میں شمولیت کی پاکستان کی درخواست کی حمایت کریں گے۔" یہ تائید پاکستان کے خارجہ تعلقات میں ایک اسٹریٹجک تبدیلی کی علامت ہے، کیونکہ وہ اپنے عالمی اتحادوں میں تنوع لانے اور اپنی معاشی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اپنے دورے کے دوران اوورچک اور ڈار نے روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی بات چیت کی، جس میں دوطرفہ تجارت بڑھانے پر خاص توجہ دی گئی۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان تجارت ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو ایک اہم سنگِ میل ہے کیونکہ دونوں ملک اپنے تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں۔ تجارت کا یہ بڑھتا ہوا تعلق، جو توانائی، زراعت اور دیگر اہم شعبوں پر محیط ہے، پاکستان کی جانب سے غیر مغربی منڈیوں کی طرف رخ کرنے کی وسیع تر کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔
اوورچک کا دورہ روس اور پاکستان کے حکام کے درمیان اعلیٰ سطحی تبادلوں کے ایک سلسلے کے بعد ہو رہا ہے، جن کا مقصد توانائی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے روس سے توانائی کی درآمدات کے قابلِ اعتماد ذرائع قائم کرنے کا خواہاں رہا ہے، اور حالیہ دنوں میں اس جنوبی ایشیائی ملک کو روسی تیل اور گیس کی فراہمی بڑھانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔
ان مذاکرات کی تزویراتی اہمیت کو کم کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ عالمی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی بڑھنے کے ساتھ، بالخصوص یوکرین پر حملے کے بعد روس پر مغربی پابندیوں کے تناظر میں، ماسکو نئے اقتصادی اور سیاسی اتحادیوں کی تلاش میں ہے۔ پاکستان اپنے تزویراتی محلِ وقوع اور بڑھتی ہوئی معیشت کے باعث روس کے لیے ایک پرکشش شراکت دار ہے، جو اسے جنوبی ایشیا اور وسیع تر مسلم دنیا، دونوں تک رسائی کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع پر غیر جانبدارانہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود پاکستانی حکومت نے ماسکو کے حملے کی مذمت سے گریز کیا ہے اور اس کے بجائے سفارتی مذاکرات کے ذریعے تنازع کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔ اس عملی انداز نے اسلام آباد کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ مغربی ممالک کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط جاری رکھتے ہوئے روس کے ساتھ بھی مثبت تعلقات برقرار رکھے۔
یہ نازک توازن فروری 2022 میں پوری طرح سامنے آیا، جب پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے ماسکو کا دورہ کر کے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ یہ دورہ روس کے یوکرین پر حملے سے چند روز قبل ہوا، اور اس نے واضح کیا کہ عالمی کشیدگی میں اضافے کے باوجود پاکستان روس کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان بڑی حد تک اس تنازع میں غیر جانبدار رہا ہے، تاہم روس کے ساتھ اس کے معاشی تعلقات، خصوصاً توانائی اور تجارت کے شعبوں میں، مسلسل بڑھتے رہے ہیں۔
سویلین حکام سے ملاقاتوں کے علاوہ اوورچک نے پاکستان کے بااثر آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی بات چیت کی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فوج کا کردار کلیدی ہے، اور خیال کیا جاتا ہے کہ اوورچک اور عاصم منیر کی گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کے شعبے میں تعاون اور دفاعی شراکت داری کے امور بھی زیرِ بحث آئے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے روس کے ساتھ فوجی تعاون کے نئے راستے تلاش کیے ہیں، جن میں اسلحے کے سودے اور مشترکہ فوجی مشقیں شامل ہیں۔ فوجی تعلقات میں یہ اضافہ اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان قائم ہونے والے وسیع تر معاشی اور سیاسی روابط کو ایک اور جہت دیتا ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی گرمجوشی اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کی بدلتی حرکیات کی عکاسی کرتی ہے۔ جیسے جیسے مغرب کی قیادت میں قائم اداروں کو بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کا سامنا ہے، پاکستان جیسے ممالک متبادل اتحادوں کے ذریعے اپنی آزادی کا اظہار کرنے اور اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
پاکستان کی برکس میں ممکنہ شمولیت اس کے خارجہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہو گی، جس سے وہ دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مزید قریب آئے گا اور عالمی سطح پر اس کا اثر و رسوخ بڑھے گا۔ روس کے لیے پاکستان کی رکنیت کی کوشش کی حمایت ماسکو کی اس وسیع تر حکمتِ عملی سے مطابقت رکھتی ہے جس کے تحت وہ مغرب کے ساتھ جاری پابندیوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران غیر مغربی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔



