SCO sarbarahi ijlas 2024: Kaun se mumalik Islamabad mein shirkat ke liye aa rahe hain?

SCO sarbarahi ijlas 2024 Pakistan mein 15 aur 16 October ko munaqid hoga, jis mein China, Russia, Bharat aur Iran jaise rukn mumalik ke sarbarahan-e-hukumat shirkat karein ge. Ijlas ka bunyadi maqsad security, iqtisadi taawun aur ilaqai rabte par tawajjoh markooz karna hai.

Raaye dein

Tarjuma ho raha hai… 1 / 4 Asal tehreer parhein

The 2024 SCO Summit in Pakistan on October 15-16 will bring together heads of government from member nations like China, Russia, India, and Iran, focusing on security, economic cooperation, and regional connectivity. — ORIGINAL/THE THURSDAY TIMES
The 2024 SCO Summit in Pakistan on October 15-16 will bring together heads of government from member nations like China, Russia, India, and Iran, focusing on security, economic cooperation, and regional connectivity. — ORIGINAL/THE THURSDAY TIMES

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس 2024 پاکستان میں 15 اور 16 اکتوبر کو منعقد ہوگا، جو ایک اہم جغرافیائی سیاسی تقریب بنتی جارہی ہے۔ اس اجلاس میں کئی یوریشیائی ممالک کے سربراہان حکومت شرکت کریں گے، جن کا مقصد سیکیورٹی، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام جیسے کلیدی مسائل پر بات چیت کرنا ہے۔ اس سال کا اجلاس خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ پاکستان کے اسٹریٹجک عزائم کی عکاسی کرتا ہے، جو اس وقت ایس سی او کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کی سربراہی کر رہا ہے، جو تنظیم کا دوسرا بڑا فیصلہ ساز فورم ہے۔

اسی سی او کے کون سے رکن ممالک 2024 اجلاس شرکت کر رہے ہیں

ایس سی او کی بنیاد 2001 میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان نے رکھی تھی۔ سالوں کے دوران اس میں پاکستان اور بھارت شامل ہوئے، جو 2017 میں اس کے رکن بنے، جبکہ ایران 2023 میں مکمل رکن بنا۔ ایس سی او اب دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے، جو تقریباً 60 فیصد یوریشیا کا احاطہ کرتی ہے اور دنیا کی تقریباً 40 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتی ہے۔

چین

چین ایس سی او میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 2024 کے اجلاس میں چین کے وزیراعظم لی چی یانگ کی شرکت متوقع ہے، جو خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرے گی۔ چین کی شرکت خاص طور پر اقتصادی ترقی اور رابطے کے منصوبوں جیسے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو  پر بات چیت میں اہم ہے۔

روس

روسی وزیراعظم میخائل میشسٹن بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ روس، ایس سی او کا بنیادی رکن ہونے کے ناطے، سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور تجارتی تعاون پر بات چیت میں فعال طور پر شامل ہے۔

بھارت

ایس سی او اجلاس میں بھارت کی شرکت قابل ذکر ہے، خاص طور پر اس کے چین اور پاکستان کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کی وجہ سے۔ بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی شرکت متوقع ہے، جو نو برس میں بھارت کا پہلا اعلیٰ سطحی دورہ پاکستان ہوگا۔

ایران

ایران نے 2023 میں ایس سی او میں مکمل رکنیت حاصل کی، اور یہ اجلاس ایران کی نئی حکومت کے لیے پہلی موقع ہوگا کہ وہ اعلیٰ سطح پر حصہ لے۔

وسطی ایشیائی ممالک

ایس سی او کے بانی ارکان — قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، اور ازبکستان — بھی اپنے حکومتی سربراہان کو اجلاس میں بھیجیں گے۔ ان ممالک کی شرکت خطے میں استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم ہے۔

اسی سی او کے ایجنڈے پر کیا ہے؟

اجلاس کا ایک اہم مقصد خطے میں سیکیورٹی کو بڑھانا ہوگا۔ اس کے علاوہ، اقتصادی تعاون، خاص طور پر انفراسٹرکچر کی ترقی اور تجارتی رابطے پر بات چیت ہوگی۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) بھی زیر بحث آئے گی۔

پاکستان کے لیے اہمیت

پاکستان کے لیے ایس سی او 2024 کے اجلاس کی میزبانی کرنا ایک اسٹریٹجک موقع ہے تاکہ وہ علاقائی تعاون میں اپنی قیادت کو مضبوط کرے۔

TT Monitoring Desk

Reports from The Thursday Times' in-house monitoring desk.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media