سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استعفی دے دیا

سپریم کورٹ اف پاکستان کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ آئینِ پاکستان میں 27ویں ترمیم کی منظوری اور صدر کے دستخط کے بعد سامنے آیا ہے۔

رائے دیں
Two of Pakistan’s most senior Supreme Court judges, Justice Mansoor Ali Shah and Justice Athar Minallah, have quit following the passage of the 27th Constitutional Amendment. — FILE/THE THURSDAY TIMES
Two of Pakistan’s most senior Supreme Court judges, Justice Mansoor Ali Shah and Justice Athar Minallah, have quit following the passage of the 27th Constitutional Amendment. — FILE/THE THURSDAY TIMES
یہ تحریر سنیںسپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استعفی دے دیا2 منٹ · آلے کی آواز0:00 / 1:31

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے عہدوں استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ یہ فیصلہ آئینِ پاکستان میں 27ویں ترمیم کے بعد سامنے آیا ہے جو پارلیمنٹ میں منظور ہو چکی ہے جبکہ صدر بھی دستخط کر چکے ہیں۔

عدالتِ عظمیٰ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے صدرِ مملک کو بھیجے گئے 13 صفحات پر مشتمل اپنے استعفیٰ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعہ آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے، ستائیسویں آئینی ترمیم پاکستانی آئین پر سنگین حملہ ہے جس نے سپریم کورٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، آئینی ترمیم سے انصاف عام آدمی سے دور ہو گیا ہے جبکہ کمزور طاقت کے سامنے بےبس ہو گیا ہے۔

تھرسڈے ٹائمز کورٹ رپورٹر

تھرسڈے ٹائمز کے کورٹ رپورٹر کی جانب سے عدالتوں اور قانون کی خبریں۔

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media