اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — نیویارک پوسٹ کی واشنگٹن میں مقیم قومی سلامتی کی رپورٹر کیٹلن ڈورنبوس نے اسلام آباد میں اپنے قیام کو “شاندار اور پُرتپاک” قرار دیا ہے۔ وہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوریج کے لیے شہر میں موجود تھیں، اور انہوں نے اس دوران ملنے والے پاکستانیوں کے تجسس کی تعریف کی۔
تھرسڈے ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ڈورنبوس نے کہا کہ یہاں کے رہائشیوں نے عالمی امور میں گہری دلچسپی ظاہر کی، اور پاکستانیوں سے ملاقات ان کے دورے کی غیر متوقع خوشگوار باتوں میں سے ایک رہی۔
"میں یہاں سیاسی وجوہ سے نہیں آئی،" انہوں نے کہا۔ ان کا کام امریکا کے ناظرین کے لیے جنگ کی رپورٹنگ کرنا ہے، اور اس کے خاتمے کی بھی، جس کی وہ امید رکھتی ہیں۔ ان کے بقول پاکستان کے لوگوں سے واقفیت "اوپر سے اضافی مٹھاس" جیسی تھی۔
'آپ کو بس پتا نہیں ہوتا'
اسلام آباد مذاکرات کے بارے میں وہ کتنی پُرامید ہیں، اس سوال پر ڈورنبوس نے محتاط جواب دیا۔ "رپورٹر ہونے کی بات یہ ہے، خاص طور پر ایسے تنازعات میں، کہ آپ کو بس پتا نہیں ہوتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے،" انہوں نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ فطری طور پر اچھی خبر کی امید رکھتے ہیں، مگر یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آگے کیا ہوگا۔
ڈورنبوس نے حال ہی میں کہا تھا کہ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان گفتگوؤں سے وہ صرف ایک ہی پختہ بات اخذ کر سکتی ہیں، اور وہ یہ کہ گزشتہ روز تک بات چیت جاری تھی۔ "میں صرف اسی بات کی بنیاد پر کچھ کہہ سکتی ہوں،" انہوں نے کہا۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے باعث اسلام آباد نے اس ماہ دنیا بھر سے غیر ملکی نامہ نگاروں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔



