دبئی (تھرسڈے ٹائمز) — ایچ ایس بی سی گروپ کے چیف ایگزیکٹو جارج الہدیری نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پانچ سال کے اندر "غیر ضروری" ہو سکتی ہے، کیونکہ خلیجی ریاستیں ایران سے متعلق جنگ کے جواب میں توانائی کی برآمد کے متبادل راستوں میں سرمایہ کاری تیز کر رہی ہیں۔
دبئی میں ایچ ایس بی سی فیوچر فورم سے خطاب کرتے ہوئے الہدیری نے کہا کہ اس تنازع کے باعث پورے خطے میں بھاری سرمایہ کاری ہو گی، کیونکہ حکومتیں اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنا انحصار کم کرنا اور توانائی کی برآمدات کو آئندہ کسی رکاوٹ سے بچانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا: "ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ خطہ بحالی حاصل کر سکے گا اور پھر ترقی کا سفر جاری رکھے گا۔ اس کا مطلب ہے بہت زیادہ سرمایہ کاری۔ یقیناً ہم چاہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ تنازع کا حل نکلے… لیکن ہرمز، غالباً پانچ سال بعد، غیر ضروری ہو سکتی ہے۔"
آبنائے ہرمز ایک تنگ بحری راستہ ہے جہاں سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت گزرتی تھی۔ یہ راستہ تنازع کے دوران تشویش کا مرکز بن گیا ہے، جس سے عالمی معیشت کا اس پر انحصار اجاگر ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے پاس پہلے ہی ابوظہبی کروڈ آئل پائپ لائن کی صورت میں متبادل راستہ موجود ہے، جو خام تیل کو ہرمز سے مکمل طور پر بچتے ہوئے خلیج عمان پر واقع فجیرہ تک پہنچاتی ہے۔ سعودی عرب اپنی مشرق-مغرب پائپ لائن کے ذریعے تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع کی طرف موڑ سکتا ہے، جبکہ عمان کی بندرگاہیں آبنائے سے باہر مزید امکانات فراہم کرتی ہیں۔ الہدیری نے عندیہ دیا کہ ایسے ڈھانچے کی توسیع اگلے پانچ سال میں خلیج کے توانائی کے نیٹ ورک کی شکل بدل سکتی ہے، تاہم موجودہ پائپ لائنیں اس مقدار کا صرف ایک حصہ منتقل کرتی ہیں جو عام طور پر ہرمز سے گزرتی ہے۔
یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب ایچ ایس بی سی نے پیر کو ایک رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور ترکی میں انفرادی منصوبوں کے 872 ارب ڈالر کے پیکجز سرمایہ کاری کے لیے دستیاب ہیں۔ یہ رقم بنیادی ڈھانچے کے ان منصوبوں کے 1.4 ٹریلین ڈالر کے وسیع تر سلسلے کا حصہ ہے جن کے ٹھیکے ابھی دیے جانے ہیں۔ یہ رپورٹ دبئی میں قائم تعمیراتی معلومات کے پلیٹ فارم MEED کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ ایچ ایس بی سی نے بتایا کہ 1,600 سے زائد کاروباری رہنماؤں اور تقریباً 820 عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے سروے میں شریک افراد نے تنازع کے باوجود خلیج کو اب بھی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام قرار دیا۔
اس کے باوجود معاشی نتائج بڑھتے جا رہے ہیں۔ 2025 میں 3.3 فیصد شرحِ نمو کے بعد ورلڈ بینک کا اندازہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان کے خطے کی معیشت 2026 میں 1.3 فیصد سکڑے گی، جبکہ 2027 میں مضبوط لیکن غیر یکساں بحالی متوقع ہے۔ تنازع نے خطے کے سرمایہ کاری کے کیلنڈر کو بھی متاثر کیا ہے: سعودی عرب کی نمایاں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس، جس میں الہیدری کی شرکت متوقع تھی، ریاض پر حوثیوں کے مہلک حملوں کے بعد 2027 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔



