اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — عالمی بینک کی دستاویزات کے مطابق پاکستان سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کے لیے ایک نئے پروگرام کے تحت عالمی بینک سے 600 ملین ڈالر قرض لینے کا منصوبہ رکھتا ہے، اور اس کے بدلے انویسٹمنٹ ایکٹ اور فیکٹرنگ قانون منظور کرنے اور گندم و چینی کی بین الاقوامی تجارت آزاد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون نے بدھ کو عالمی بینک کی جاری کردہ دستاویزات کے حوالے سے بتایا کہ بولڈ ریفارمز فار انویسٹمنٹ ڈریون گروتھ اینڈ ایمپلائمنٹ، برج (BRIDGE)، پروگرام کی 29 جنوری 2027 کو منظوری متوقع ہے اور یہ قرض وزارتِ خزانہ لے گی۔ پروگرام کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 1.2 ارب ڈالر ہے، جس میں سے 600 ملین ڈالر عالمی بینک قرض دے گا اور باقی 593 ملین ڈالر وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔
پاکستان نے کیا وعدے کیے ہیں
پروگرام کے تحت حکومت نے عالمی بینک کو یقین دلایا ہے کہ وہ کم از کم دو نئے قوانین، انویسٹمنٹ ایکٹ اور فیکٹرنگ قانون، نافذ کرے گی، کام کے لیے بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کا ڈیٹا بیس بنائے گی، چینی اور گندم کی آزادانہ بین الاقوامی تجارت کی اجازت دے گی، اور نجی درآمد کنندگان کے ذریعے یوریا کی درآمد کا حصہ بڑھائے گی۔
عالمی بینک نے کہا کہ پاکستان کے آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کے تحت معاشی استحکام بڑی حد تک حاصل ہونے کے بعد اب توجہ نجی سرمایہ کاری بڑھانے پر منتقل ہو رہی ہے، جو اس کے مطابق جی ڈی پی (GDP) کا تقریباً 10 فیصد ہے، یعنی خطے کے ہم پلہ ممالک کی سطح کے نصف سے بھی کم، جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری جی ڈی پی کا تقریباً 0.6 فیصد ہے۔
حکومت پنشن اور نجی شعبے کی اصلاحات کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی 750 ملین ڈالر حاصل کرنا چاہتی ہے۔ الگ سے، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے اس ہفتے سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ اس نے تقریباً 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع منصوبے تیار کر لیے ہیں۔



