تہران (تھرسڈے ٹائمز) — ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جمعہ کو کہا کہ آبنائے ہرمز میں اس کے بقول غیر مجاز راستے استعمال کرنے کی کوشش کرنے والے تین آئل ٹینکروں میں آگ لگ گئی اور وہ دھماکے سے پھٹ گئے، اور یہ کہ اس نے آبی گزرگاہ میں ایک امریکی بغیر عملے کی کشتی تباہ کر دی، جبکہ قطری ثالث جنگ بندی بحال کرنے کی کوشش کے لیے تہران پہنچ گئے۔
ایرانی سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے بیان کے مطابق 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جانے والا ایک ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرایا تھا۔ روئٹرز فوری طور پر ان دعووں کی تصدیق نہیں کر سکا، اور بغیر عملے کی کشتی کے بارے میں امریکی فوج کی جانب سے کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔ جمعہ کو اس سے پہلے ایران نے کہا تھا کہ چار ٹینکروں میں آگ لگ گئی ہے جو بارودی سرنگوں سے ٹکرائے تھے، یہ واشنگٹن کے اس اعلان کے ایک دن بعد ہوا کہ بحری راستے صاف کر دیے گئے ہیں۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا (IRNA) کے مطابق یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے جب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی کے ایک سینئر مشیر کی سربراہی میں اور امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں کام کرنے والا ایک قطری وفد مذاکرات کے لیے تہران پہنچا۔
قطریوں نے گزشتہ ہفتے ایران کے سکیورٹی سربراہ محسن رضائی کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک خط پہنچایا تھا، جس میں مبینہ طور پر مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تجویز کیا گیا تھا۔ ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایک ہفتے کے اندر دوحہ یا استنبول میں ملاقات ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن ملے جلے اشارے دے رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے دوبارہ حملوں کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آپشنز پر بریفنگ دی ہے، اور اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے خلیجی اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ اگلے منگل کے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایک مختصر اور شدید مہم کے لیے تیار رہیں۔



