ماسکو (تھرسڈے ٹائمز) — آزاد روسی اخبار نووایا گزیٹا، جس کے ایڈیٹر نے 2021 میں نوبیل امن انعام مشترکہ طور پر حاصل کیا تھا، نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ بند ہو رہا ہے، اور کہا کہ روسی حکام اور انٹیلی جنس اداروں نے اسے بند کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ادارتی بورڈ نے ”ہمیں قتل کر دیا گیا“ کے عنوان سے جاری بیان میں کہا: ”اخبار ختم ہو گیا ہے۔“ چیف ایڈیٹر سرگئی سوکولوف نے یوٹیوب پر جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ عملہ 9 نومبر کو 30 برس سے زیرِ استعمال اپنے نیوز روم کی ”بتیاں بجھا دے گا“، سرور بند کر دے گا اور رخصت ہو جائے گا۔
یہ بندش کئی ہفتوں سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں حکام نے سوکولوف کے گھر کی تلاشی لی اور انہیں ان کے ساتھی اولیگ رولدوگن کے خلاف ایک فوجداری مقدمے میں پوچھ گچھ کے لیے لے گئے، جنہیں اپریل میں گرفتار کر کے ان پر ”کمپیوٹرائزڈ معلومات تک غیر قانونی رسائی“ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق سوکولوف کو 15 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا۔
صحافتی آزادی کی اس تنظیم نے کہا: ”اس کے چھ صحافیوں اور عملے کے ارکان کو قتل کیا جا چکا ہے، اس کے نیوز روم پر چھاپے مارے گئے، اس کے صحافیوں کے خلاف مقدمات چلائے گئے، اور اس اشاعتی ادارے کو ’غیر ملکی ایجنٹ‘ قرار دیا گیا ہے۔“ قتل ہونے والوں میں تحقیقاتی صحافی آنا پولیتکوفسکایا بھی شامل تھیں، جنہیں 2006 میں ماسکو میں گولی مار کر قتل کیا گیا۔
1993 میں قائم ہونے والا یہ اخبار 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد ہی روس کے اندر اپنی سرگرمیاں محدود کر چکا تھا، جب حکام نے اس کا میڈیا لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے اس وقت کے ایڈیٹر دمتری موراتوف نے اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کی کوششوں پر 2021 کا نوبیل امن انعام مشترکہ طور پر حاصل کیا تھا۔ جلاوطن سابق عملہ ریگا سے ایک الگ ایڈیشن، نووایا گزیٹا یورپ، شائع کرتا ہے۔



