دوحہ (تھرسڈے ٹائمز) — قطر کا ایک مائع قدرتی گیس بردار جہاز جمعے کی شام خلیج میں سفر کے دوران "نامعلوم اشیا" کی زد میں آ گیا۔ جہاز کی مالک کمپنی قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی نے اتوار کو یہ بات بتائی۔
کمپنی نے قطر اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائے گئے بیان میں کہا کہ المیدا (Al Mayeda) کے عملے میں سے کوئی بھی زخمی نہیں ہوا اور ماحول کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بیان کے مطابق جہاز "محفوظ حالت میں اور فعال" ہے اور واقعے کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جہاز کو کس چیز نے نشانہ بنایا اور وہ ٹھیک کس مقام پر تھا۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) اور برطانیہ کے ادارے برائے بحری تجارتی آپریشنز (UKMTO) کے اعداد و شمار کے مطابق فروری میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے 120 سے زائد تجارتی جہاز نشانہ بن چکے ہیں۔ جنگ کے دوران جہاز رانی کے لیے اکتوبر بدترین مہینہ رہا، جس میں کم از کم 29 جہاز نشانہ بنے، جبکہ مارچ میں 20 حملے ریکارڈ کیے گئے تھے۔
ایران نے جنگ کے آغاز میں ہی آبنائے ہرمز بند کر دی تھی اور بارہا خبردار کر چکا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو "تباہی" کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکا کی جانب سے جولائی میں ایران کی جنوبی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ آبنائے کھولنے کے لیے مذاکرات میں اب تک بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔
قطر دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی (LNG) برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، اور اس کے گیس بردار جہازوں کا بیڑا پاکستان سمیت ایشیا اور یورپ بھر کے خریداروں کو گیس فراہم کرتا ہے۔



