تہران (تھرسڈے ٹائمز) — ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے دو دن کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے پانچ شرائط پیش کی ہیں، جبکہ قطری اور پاکستانی ثالث منگل کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے معاہدے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ہفتے کو عراقچی کے ایک معاون سمیت ایرانی وفد نے دوحہ میں قطری ثالثوں سے بات چیت کی، اس سے پہلے قطری حکام تہران کا دورہ کر چکے تھے۔ عراقچی نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ حال ہی میں عائد کی گئی امریکی پابندیاں ختم کی جائیں، جون میں دی گئی تیل کی چھوٹ بحال کی جائے، خطے میں امریکی فوجی موجودگی کم کی جائے، آبنائے میں ایران اور عمان کی طے کردہ جہاز رانی کی نئی گزرگاہوں کو تسلیم کیا جائے، اور اسرائیل کے لبنان پر حملوں سمیت تمام محاذوں پر لڑائی ختم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قطری اور پاکستانی ثالث “ہماری شرائط کے بارے میں مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں”۔
پاکستان پوری جنگ کے دوران مرکزی رابطہ کار رہا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کئی بار تہران جا چکے ہیں، اور اسلام آباد اور دوحہ نے جون کی اس مفاہمتی یادداشت کو طے کرانے میں مدد کی جو اگست میں ٹوٹ گئی۔ ایران کے سکیورٹی سربراہ محسن رضائی نے کہا کہ امریکا نے تہران کی شرائط ماننے پر “آمادگی ظاہر کی ہے”، جس کی واشنگٹن نے تصدیق نہیں کی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ قطر کی قیادت میں مذاکرات جاری ہیں، تاہم انہیں کسی مدت کا علم نہیں۔ انہوں نے کہا: “متعدد مذاکرات ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بات چیت کبھی رکی ہی نہیں۔ اگر کوئی سفارتی حل نکلتا ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہوں گے۔” نائب صدر جے ڈی وینس نے اس ہفتے رضائی کو خط لکھا، اور رضائی کے مطابق خط کا لہجہ پہلے کے پیغامات کے مقابلے میں “مکمل طور پر بدل گیا” ہے۔ عراقچی نے اسے “ایک مثبت قدم” قرار دیا، لیکن خبردار کیا کہ اگر اس کا مقصد اختلافات کو ہوا دینا ہے تو یہ “ایک اور غلطی” ہوگی۔
دونوں فریق جنگ کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو وسط مدتی انتخابات کے بعد حملوں کا بارہا عندیہ دے چکے ہیں، ہفتے کو کہا کہ مذاکرات "ٹھیک چل رہے ہیں" مگر "زیادہ قابلِ اعتماد نہیں"، اور یہ کہ امریکا کو ایران کے کئی مقامات سے ابھی "نمٹنا" ہے۔ انہوں نے زیرِ زمین مشتبہ جوہری کمپلیکس کا نام بھی لیا، جو پک ایکس ماؤنٹین کے نام سے جانا جاتا ہے۔ روبیو نے کہا کہ ٹرمپ نے نئے حملوں کا فیصلہ ابھی نہیں کیا۔
"ہماری مسلح افواج پہلے کسی بھی وقت سے زیادہ جنگ کے لیے تیار ہیں، اور ہم ہر صورتِ حال کے لیے تیار ہیں،" عراقچی نے کہا۔ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے کسی بھی نئے حملے کے خلاف "جغرافیائی حدود کی پابندی کے بغیر" فوری جواب دینے کا حکم دیا ہے، جبکہ رضائی نے کہا کہ ایران "نئے ہتھیار" استعمال کرے گا اور حکومت اپنے جوہری نظریے میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے، جو فی الحال جوہری ہتھیاروں پر پابندی عائد کرتا ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل بھی امریکی انتخابات کے بعد لڑائی کے ایک اور دور کی تیاری کر رہا ہے۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جو گزشتہ ہفتے کے انتخابات میں اپنی اکثریت کھو دینے کے بعد اب نگران وزیراعظم ہیں، ایرانی خطرے کو "ہمیشہ کے لیے" ختم کرنے کے ایک "تاریخی اور یکتا موقع" کا ذکر کر چکے ہیں۔



