لندن (تھرسڈے ٹائمز) — دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس کے گزشتہ ہفتے کے ریکارڈ ہیک کے بعد، جس میں 6.3 ارب ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثے نشانہ بنے، اتوار کو ایکسچینج دوبارہ کھلا تو صارفین نے اس سے 3.6 ارب ڈالر سے زائد نکلوا لیے۔
بائنانس نے ایکس (X) پر کہا کہ رقوم نکلوانے میں "ابتدائی تیزی" آئی تھی، جو بعد میں کم ہو گئی اور اب "توقع کے مطابق مستحکم ہو رہی ہیں"۔ بٹ کوائن اور ایتھر جیسے بڑے ٹوکنز نکلوانے کی سہولت بحال ہو چکی ہے، اور کمپنی کے مطابق سکیورٹی جانچ مکمل ہونے کے بعد دیگر خدمات مرحلہ وار بحال کی جائیں گی۔
کمپنی نے بتایا کہ وہ اب چوری شدہ اثاثوں کا تقریباً 95 فیصد پورا کر چکی ہے، جبکہ اس سے پہلے اس نے 90 فیصد سے زائد پورا کرنے کی اطلاع دی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ باقی اثاثوں کا انتظام کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے، اور وہ بارہا تمام نقصان پورا کرنے کا وعدہ کر چکی ہے۔
ایف بی آئی (FBI) نے اس حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا کو ٹھہرایا ہے، جو کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری ہے۔ بائنانس نے جمعرات کو سکیورٹی میں نقب کا پتا چلنے کے بعد تمام لین دین معطل کر دیا تھا، اور اس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شراکت داروں کی مدد سے چوری شدہ اثاثوں میں سے تقریباً 3 ارب ڈالر منجمد کر دیے گئے ہیں۔



