بیجنگ (تھرسڈے ٹائمز) — چین نے پیر کو بیجنگ میں یکے بعد دیگرے ہونے والی ملاقاتوں میں ایران اور سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ وزیر خارجہ وانگ یی نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ "ایک بار پھر جنگ اور امن کے درمیان نازک موڑ پر پہنچ گیا ہے"۔
چینی بیان کے مطابق وانگ یی نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی سے کہا: "تمام فریقوں کو معقولیت اور عملیت پسندی کے جذبے کے تحت ایک بار پھر مسلح تصادم کا سہارا لینے کے بجائے سیاسی حل پر توجہ دینی چاہیے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیجنگ "اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ" میں تہران کی حمایت کرتا ہے۔ چین نے اس دورے کا پہلے سے اعلان نہیں کیا تھا۔
وانگ یی نے بعد ازاں سعودی قومی سلامتی کے مشیر مساعد بن محمد العیبان سے ملاقات کی، جنہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان کا صدر شی جن پنگ کے نام خط پہنچایا۔ وانگ یی نے کہا کہ چین کو امید ہے کہ تمام فریق مذاکرات کے ذریعے دشمنی ختم کر سکیں گے اور خطے کی توانائی اور بحری گزرگاہوں کا تحفظ کر سکیں گے۔
شی جن پنگ نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کی بھی میزبانی کی، جو دونوں ملکوں کے تعلقات قائم ہونے کے بعد کسی عمانی سربراہ مملکت کا چین کا پہلا دورہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کو "بڑی طاقتوں کی دشمنی اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کا اکھاڑا" نہیں بننا چاہیے۔ مشترکہ بیان میں سلطان نے چین کی امن تجاویز کی حمایت کی اور کہا کہ وہ بیجنگ کے "زیادہ بڑے کردار" کے منتظر ہیں۔
چین نے کہا کہ اس کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اس ماہ کے آخر میں امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے "شٹل ڈپلومیسی" کے سلسلے میں ایران، عمان اور سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب منگل کو امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ ایران میں ایک یا دو اہداف سے امریکہ کو ابھی "نمٹنا" باقی ہے، جبکہ تہران نے جوابی کارروائی سے خبردار کیا ہے۔ ایران نے پیر کو کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ رابطے جاری ہیں، جب قطری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے۔



