نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — اسرائیل کے سابق آرمی چیف ہرزی ہلیوی نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کا حملہ ایک ناکامی تھی جسے "روکا جا سکتا تھا"، تاہم انہوں نے اندرونی سازش کے دعووں کو مسترد کیا اور اعتراف کیا کہ اسرائیلی بمباری سے غزہ میں یرغمالی ہلاک ہوئے۔
2025 میں استعفیٰ دینے کے بعد پہلی بار اس حملے پر عوامی سطح پر بات کرتے ہوئے ہلیوی نے اتوار کو نیویارک کے میوزیم آف جیوش ہیریٹیج میں ایک کانفرنس سے خطاب میں کہا: "غداری بالکل نہیں ہوئی۔ سیاسی قیادت اور ملک کی اعلیٰ قیادت کو یہ بات صاف اور دوٹوک انداز میں کہنی چاہیے۔"
انہوں نے کہا: "میں ان لوگوں کو جانتا ہوں، اور مجھے یقین نہیں آتا کہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی، دہائیوں کی ایسی خدمت کے بعد جس میں انہوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں، اچانک حماس کی مدد کا فیصلہ کر لے۔" انہوں نے مزید کہا کہ حماس کی مدد کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک درکار ہوتا، "مگر تین سال گزرنے کے بعد بھی ایسا ایک شخص بھی نہیں ملا"۔
'ہم بروقت وہاں نہیں پہنچے'
ہلیوی نے ریاستی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔ بیبس خاندان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس کے افراد کو اغوا کر کے ہلاک کر دیا گیا، انہوں نے کہا: "ناکامی کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہو گا تاکہ ہم معاملات درست کر سکیں۔ میں شیری بیبس کی تصویر دیکھتا ہوں تو ان کی آنکھوں میں خوف نظر آتا ہے۔ ہم ان کی مدد اور جان بچانے کے لیے بروقت وہاں نہیں پہنچے۔ یہی ناکامی ہے۔"
انہوں نے کہا کہ حملے سے پہلے فوج کی ترجیحات "پہلے ایران، پھر حزب اللہ، اور اس کے بعد ہی حماس" تھیں، کیونکہ فوج، شن بیت اور سیاسی قیادت میں عمومی رائے یہی تھی کہ حماس جنگ نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہا: "حماس نے ہمیں اس اندازے تک پہنچانے کے لیے بڑی کوشش کی۔"
غزہ کی جنگ کے بارے میں ہلیوی نے کہا کہ سیاسی قیادت کو زمینی کارروائی کی منظوری دینے پر آمادہ کرنے میں بہت وقت لگا، اور یہ کہ فوجی دباؤ کے بغیر یرغمالیوں کو واپس نہیں لایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے غلطیوں کا اعتراف بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا: "بدقسمتی سے ہم سے غلطیاں ہوئیں۔ ہمارے اپنے بموں سے یرغمالی مارے گئے۔ ظاہر ہے یہ جان بوجھ کر نہیں ہوا؛ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ وہاں موجود ہیں۔"



