کیف (تھرسڈے ٹائمز) — یوکرینی حکام کے مطابق پیر کو یوکرین کے گاؤں کومیشووخا میں روسی فضائی بموں کے حملے میں ایک ایسا اسکول نشانہ بنا جہاں انسانی امداد تقسیم کی جاتی تھی، جس سے کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ جنگ کی طویل ترین جنگ بندی کے بعد دیگر مقامات پر لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔
یوکرین کی ایمرجنسی سروس نے یہ نئی تعداد بتائی، جو پہلے 18 تھی، اور کہا کہ مرنے والوں میں امدادی کارکن اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔ زاپوریزیا کے علاقائی سربراہ میخائیلو سیمکن نے بتایا کہ پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں اور لوگ اب بھی ملبے تلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں پر کم از کم 3,000 کلوگرام وزنی نو بم گرے، اور روسی ڈرونز کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو کئی بار کام روکنا پڑا۔
صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حملے کو "انتہائی ہولناک" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکول پر پہلے حملے کے بعد نو بموں کی دوسری لہر اس پناہ گاہ کو نشانہ بنا گئی جہاں لوگوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ انہوں نے لکھا: "روسی اس بات سے بے خبر نہیں ہو سکتے تھے کہ کومیشووخا میں رہ جانے والے مقامی رہائشی ہر ہفتے ٹھیک اسی مقام پر انسانی امداد وصول کرتے تھے۔"
انہوں نے کہا: "اولیشکی میں انسانی امدادی کارروائی کے بعد ایک ایسا لمحہ آیا تھا جب اگلے اقدامات سے ظاہر ہو سکتا تھا کہ امن کی جانب پیش رفت ممکن ہے۔ ان ہلاکتوں کے ذریعے روس بالکل الٹا پیغام دے رہا ہے: روس مزید ہلاکتوں پر بھروسا کر رہا ہے۔" انہوں نے دنیا سے "مضبوط اور سخت ردعمل" کا مطالبہ کیا۔
وہ جنگ بندی جو پیر کو ختم ہوئی
یہ بمباری ایسے وقت میں ہوئی جب خیرسون کے علاقے میں چھ روزہ جنگ بندی ختم ہوئی۔ روس کے زیرِ قبضہ قصبے اولیشکی کے گرد یہ جنگ بندی، جس کا سہرا دونوں فریقوں نے امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی ثالثی کے سر باندھا، 2022 میں روس کے بھرپور حملے کے آغاز کے بعد سب سے طویل جنگ بندی تھی اور اس کے دوران محصور سینکڑوں شہریوں کو وہاں سے نکلنے کا موقع ملا۔
خیرسون کی مقامی انتظامیہ نے پیر کی صبح بتایا کہ حملے دوبارہ شروع ہو گئے ہیں، روس نے شہر کے مرکز میں ایک طبی مرکز کو نشانہ بنایا جبکہ ایک ڈرون حملے میں کار میں سوار دو افراد زخمی ہو گئے۔ یوکرین کے جنرل سٹاف نے روسی افواج پر الزام لگایا کہ انہوں نے جنگ بندی کے وقفے سے فائدہ اٹھا کر اپنے یونٹس تبدیل کیے اور گولہ بارود پہنچایا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ فرض کرنا "معقول" ہے کہ یوکرین نے بھی اس وقفے کو اپنی صف بندی نئے سرے سے کرنے کے لیے استعمال کیا۔
دونوں ممالک کے محتسبینِ انسانی حقوق نے، جنہوں نے مل کر اس جنگ بندی کی نگرانی کی، مطالبہ کیا کہ اسے دوسرے مقامات پر بھی دہرایا جائے۔ پیسکوف نے پیر کو اس امکان کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا: "ایسے کوئی منصوبے یا اقدامات زیرِ غور نہیں ہیں۔"
یہ حملہ کیف میں تابکاری کے جعلی الرٹ کے بعد ہوا، جب یوکرین کی فضائی حملوں سے خبردار کرنے والی ایپ ہیک کر لی گئی تھی۔



