صنعا (تھرسڈے ٹائمز) — اقوام متحدہ نے محمد الشامی کی موت کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ملازم تھے اور جون 2024 سے حراست میں رکھے جانے کے بعد یمن میں حوثیوں کی تحویل میں چل بسے۔
الشامی کی موت کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ان کے اہلِ خانہ کو حال ہی میں اطلاع دی گئی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا کہ انہیں موت کی وجہ یا حالات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ملی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام طبی ریکارڈ اور حراست سے متعلق ریکارڈ سامنے لایا جائے، شواہد محفوظ رکھے جائیں اور موت کی جو بھی وجہ بتائی جائے اس کی آزادانہ جانچ کی جائے۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ وہ "شدید صدمے" میں ہیں، اور انہوں نے حوثیوں کی تحویل میں موجود اقوام متحدہ کے تمام عملے اور امدادی و سول سوسائٹی کے کارکنوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ دہرایا۔
حوثیوں نے 2024 میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ اور این جی اوز (NGOs) کے 60 سے زائد کارکنوں پر "امریکی-اسرائیلی جاسوس نیٹ ورک" سے تعلق کا الزام لگایا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس سال فروری تک اقوام متحدہ کے 73 ملازمین اور درجنوں دیگر انسانی امدادی کارکن زیرِ حراست تھے۔ الشامی حوثیوں کی تحویل میں مرنے والے اقوام متحدہ کے دوسرے ملازم ہیں، اس سے قبل فروری 2025 میں عالمی پروگرام برائے خوراک کا ایک کارکن چل بسا تھا۔
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس کے وزیر برائے انسانی حقوق مشدل محمد نے کہا کہ یہ معاملہ زیرِ حراست افراد کے معاملے سے نمٹنے کے طریقے پر سنجیدہ نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے۔



