اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — جرمن سفیر اینا لیپل نے پیر کو کہا ہے کہ 2028 میں نیا فریم ورک شروع ہونے سے پہلے پاکستان کو یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس (GSP+) تجارتی حیثیت کے لیے دوبارہ درخواست دینا ہو گی۔
اس اسکیم کے تحت پاکستانی مصنوعات ترجیحی شرائط پر یورپی یونین کی منڈیوں میں داخل ہوتی ہیں۔ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جس میں جرمنی سرفہرست ہے۔ لیپل نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ تمام مستفید ملکوں کو دوبارہ درخواست دینا ہو گی، اور یورپی یونین نے گزشتہ سرما میں نگرانی کے لیے کیے گئے دورے کے بعد جولائی میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں ان شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں پاکستان کو تعمیل کے حوالے سے اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکام کو امید ہے کہ پاکستان یہ کام اطمینان بخش طریقے سے مکمل کرے گا اور اپنی حیثیت برقرار رکھے گا۔
لیپل نے کہا کہ جرمنی پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی اس کی افادیت کی بنیاد پر حمایت کرتا ہے، اور انہوں نے حالیہ جھٹکوں کے بعد معاشی استحکام کے آثار کی نشاندہی کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی رفتار جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت 2017 سے تقریباً 3.5 ارب یورو سالانہ پر برقرار ہے، حالانکہ معاشی تعلقات 1959 سے چلے آ رہے ہیں، جب پاکستان جرمنی کے ساتھ سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ کرنے والا پہلا ملک بنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اپنی سپلائی چینز کو متنوع بنانے کی غرض سے نئی دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں، اور اس سلسلے میں جرمن-پاکستان بزنس فورم اور دبئی میں جرمن-اماراتی مشترکہ چیمبر آف کامرس میں قائم نئے پاکستان ڈیسک کا حوالہ دیا۔
لیپل نے کہا کہ جرمن جامعات میں پاکستانی طلبہ کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جو 2017 میں 6,000 تھی اور اب 13,000 ہے۔ جرمن حکام اس کی بڑی وجہ سرکاری جامعات کو قرار دیتے ہیں جو ٹیوشن فیس نہیں لیتیں، اور طلبہ کو صرف اپنے رہائشی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔



