تہران (تھرسڈے ٹائمز) — ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے اس منصوبے کے لیے پانچ شرائط پیش کی ہیں جسے انہوں نے پائیدار سلامتی کا روڈ میپ قرار دیا، اور ان میں آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری کو تسلیم کرنا بھی شامل ہے۔ دوسری جانب قطر نے کہا ہے کہ وہ ایسے معاہدے کے لیے پُرامید ہے جس سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے منگل کو میجر جنرل علی عبداللہی کا جو منصوبہ رپورٹ کیا، اس میں لبنان اور غزہ سمیت تمام محاذوں پر دشمنی کے خاتمے، پابندیوں کے مکمل خاتمے اور ایرانی اثاثوں کی بحالی، جنگی تاوان، آبنائے پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنے، اور علاقائی سلامتی کے فریم ورک کے تحت آئندہ حملوں کے خلاف ضمانت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ شرائط اس سے کہیں آگے ہیں جو واشنگٹن نے اب تک عوامی طور پر قبول کیا ہے، جبکہ قطر نے کہا کہ ہرمز میں آزادیٔ جہاز رانی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں کہا، “اگر امید کی کوئی کرن نہ ہوتی تو مذاکرات ہی نہ ہوتے۔” انہوں نے بتایا کہ قطری وفد نے پیر کو تہران میں ایرانی حکام سے تین گھنٹے سے زیادہ ملاقات کی، اور دونوں فریق قطر کی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ ثالث ان کے درمیان خیالات کا فوری تبادلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی کشیدگی، خواہ وہ ایرانی سرزمین پر حملوں کی صورت میں ہو یا جہاز رانی پر، مذاکرات پر اثر انداز ہوگی، اور کہا کہ قطر اور پاکستان کی مشترکہ ثالثی جاری رکھنا بدستور ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بارے میں قیاس آرائی سے گریز کیا کہ معاہدے کا امکان زیادہ ہے یا کشیدگی کا۔
یہ بیانات ملے جلے اشاروں والے دن سامنے آئے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبنائے میں تین ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، اور یہ اس سے چند گھنٹے بعد ہوا جب امریکی افواج نے جزیرہ قشم پر حملہ کیا۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ دونوں فریق معاہدے سے ابھی بہت دور ہیں۔



