کیف (تھرسڈے ٹائمز) — یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے منگل کو بتایا کہ روس نے رات بھر خارکیف میں ایک اسپتال پر بمباری کی جس میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے، اور یوکرین بھر میں توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ دوسری جانب امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ہفتے ابوظہبی میں دونوں فریقوں سے مذاکرات ہوں گے۔
زیلنسکی نے کہا کہ حملے میں شہر کے ایک کلینیکل اسپتال کو نشانہ بنایا گیا اور امراضِ قلب کے شعبے کو نقصان پہنچا، جبکہ اس وقت مریضوں کا علاج جاری تھا۔ خارکیف کے میئر ایہور تیریخوف نے بتایا کہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور 1,000 سے زائد کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔
زیلنسکی کے مطابق روس نے رات بھر 289 حملہ آور ڈرون، 17 بیلسٹک میزائل اور 59 کروز میزائل داغے، جن کا ہدف بنیادی طور پر نو علاقوں میں بجلی پیدا کرنے کی تنصیبات اور سب اسٹیشن تھے۔ ژیتومیر کے گورنر نے بتایا کہ اس علاقے میں 1 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد بجلی سے محروم ہو گئے، جبکہ اوڈیسا میں بجلی کی بندش کے شیڈول نافذ کر دیے گئے۔
روسی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس نے ان بجلی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو یوکرینی فوج اور فوجی کارخانوں کو بجلی فراہم کرتی تھیں۔ روس میں ایک علاقائی گورنر نے بتایا کہ یاروسلاول میں تیل صاف کرنے کے ایک کارخانے میں یوکرینی ڈرون حملے سے آگ لگنے کے نتیجے میں دو کارکن زخمی ہوئے۔
یہ حملے اس واقعے کے ایک دن بعد ہوئے جب روسی بموں نے کومیشووخا میں امدادی مرکز کو نشانہ بنایا، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 31 ہو چکی ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ امریکی، روسی اور یوکرینی حکام آئندہ ہفتے ابوظہبی میں ملاقات کریں گے جس میں “جنگ کے بعد کے سلامتی انتظامات، کشیدگی میں کمی، انسانی ہمدردی کی کوششوں، اور امن کی جانب اگلے اقدامات” پر بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکرات کار اسی ہفتے برسلز میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، یورپی یونین اور نیٹو (NATO) کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔



