واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — ایلون مسک نے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی مدد کے لیے تقریباً نصف ارب ڈالر خرچ کیے اور پھر انہیں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں شکست کھاتے دیکھا، جس کے بعد انہوں نے اس پر مذاق کیا۔
دنیا کے امیر ترین شخص نے ایکس پر کندھے اچکانے والا ایموجی لگاتے ہوئے لکھا: "لگتا ہے انتخابات میں مداخلت کرنے والی میری خلائی لیزرز اس بار کام نہیں کر سکیں۔"
انتخابی مہم کے مالی اخراجات پر نظر رکھنے والے ادارے اوپن سیکریٹس کے مطابق، 2010 میں غیر محدود سیاسی اخراجات کی اجازت ملنے کے بعد سے مسک وفاقی انتخابی دور میں سب سے بڑے انفرادی عطیہ دہندہ بن گئے ہیں۔ ان کی رقم کا بڑا حصہ امریکہ پی اے سی (America PAC) کو گیا، جو انہوں نے 2024 میں قائم کیا تھا، اور ریپبلکن سپر پی اے سی سینیٹ لیڈرشپ فنڈ کو دیا گیا۔
ان کی سب سے بڑی انفرادی شکست ٹیکساس میں ہوئی، جہاں اب ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس کے مراکز ہیں۔ سینیٹ لیڈرشپ فنڈ نے ستمبر میں مسک کی دی ہوئی 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی رقم کین پیکسٹن کی حمایت میں خرچ کی، جنہیں ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو نے شکست دی۔ ٹالاریکو 1994 کے بعد ٹیکساس میں ریاست گیر عہدہ جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹ ہیں۔
ٹالاریکو نے اپنی فتح کی تقریر میں اس بات پر خاص زور دیا۔ انہوں نے کہا: "اس مقابلے میں ہمارا سامنا اپنے جالوتوں سے تھا۔ دنیا کا امیر ترین شخص، دنیا کا طاقتور ترین شخص اور واشنگٹن، ڈی سی (DC) کا پورا اسٹیبلشمنٹ۔"
ڈیموکریٹس نے سیاست میں بڑے سرمائے کے اثر و رسوخ کے خلاف مہم چلائی تھی۔ اس سال کے انتخابات پر مجموعی اخراجات کا تخمینہ تقریباً 12 ارب ڈالر لگایا گیا تھا، جو کسی بھی وسط مدتی انتخاب کے لیے اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔



