تہران (تھرسڈے ٹائمز) — ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جیت کو جنگ کے خلاف ووٹ قرار دیتے ہوئے خوش آمدید کہا ہے اور واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسے نظرانداز نہ کرے۔
محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا: "ضمیر کا معاملہ ہو یا مہنگائی کا، امریکیوں نے جنگ کو NO کہہ دیا ہے، اور ہم اس پیغام کی تائید کرتے ہیں۔ اگر امریکی حکومت بین الاقوامی پشت پناہوں اور بلیک میل کرنے والوں کی خدمت کے لیے اپنے عوام کی مرضی سے غداری کرے گی، تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ ہمارا NO ایک ڈراؤنے خواب کے ساتھ آتا ہے۔"
مہنگائی اور ایران کے ساتھ جنگ پر ووٹروں کا غصہ پوری انتخابی مہم میں نمایاں رہا، اور اب جنوری سے کانگریس کے دونوں ایوان ڈیموکریٹس کے کنٹرول میں ہوں گے۔ تاہم جنگ کا اختیار بدستور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔ انتخابی رات جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جنگ "بنیادی طور پر تب ختم ہوگی جب میں کہوں گا کہ ختم ہو گئی۔ یہ تب ختم ہوگی جب میں کہوں گا کہ ختم ہو۔"
ووٹنگ سے پہلے امریکی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر ریپبلکنز ہار گئے تو ٹرمپ بڑے حملے کا حکم دے سکتے ہیں، جسے وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے مسترد کر دیا۔ ایران کے مطابق اس ہفتے آبنائے ہرمز میں تین ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جبکہ قطر نے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
زیر غور ایک معاہدے کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے آبنائے کو دوبارہ کھولا جائے گا، جس کے بعد جوہری مذاکرات ہوں گے۔ پاکستان اس جنگ میں ایک مرکزی ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔



