اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — جن ٹیکس دہندگان نے گوشوارے تاخیر سے جمع کرائے وہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جاری کردہ طریقہ کار کے تحت نیا فارم اے ٹی ایل-یو جمع کرا کے 25 ہزار روپے ادا کیے بغیر ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں واپس آ سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ وہ چھ ماہ تک کوئی جائیداد نہیں خریدیں گے۔
انفرادی ٹیکس دہندگان اور واحد مالک کاروبار یہ کام آئرس 2.0 پورٹل پر کر سکتے ہیں۔ اپنے اکاؤنٹ میں لاگ اِن کریں، ڈیکلریشن ٹیب یا ٹاسک بار میں فارم اے ٹی ایل-یو تلاش کریں، ٹیکس سال منتخب کریں، حلف نامہ پڑھیں، ڈیجیٹل دستخط کریں اور جمع کرا دیں۔ طریقہ کار کے مطابق فارم جمع ہوتے ہی فائلر کی حیثیت خود بخود بحال ہو جاتی ہے۔
حلف نامے کے تحت آپ چھ ماہ تک کوئی جائیداد نہ خرید سکتے ہیں، نہ حاصل کر سکتے ہیں اور نہ اس کی ملکیت لے سکتے ہیں۔ اکتوبر میں شائع ہونے والے مسودہ قواعد کے مطابق اس میں جائیداد میں بینیفیشل انٹرسٹ بھی شامل تھا، اور مدت آئرس کی الیکٹرانک رسید کی تاریخ سے شروع ہوتی ہے۔
مسودہ قواعد کے مطابق ایف بی آر رجسٹریوں، مالیاتی اداروں اور دیگر اداروں کے ڈیٹا سے اس کی جانچ کر سکتا ہے۔ اگر الیکٹرانک سماعت کے بعد خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو یہ رعایت خلاف ورزی کی تاریخ سے واپس لے لی جائے گی اور آپ پر تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے والوں کے عام قواعد لاگو ہوں گے۔
اگر آپ اگلے چھ ماہ میں پلاٹ یا فلیٹ خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ راستہ آپ کے لیے نہیں۔ دستخط سے پہلے پورٹل پر حلف نامے کی عبارت ضرور پڑھ لیں، کیونکہ اکتوبر کے قواعد مسودہ تھے۔



