واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — ناسا نے ایک نیا پائلٹ بردار تجرباتی طیارہ، ایکس 70 فریکٹل، پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے فلائٹ کنٹرول اور پینترا بدلنے کی ایسی ٹیکنالوجی آزمائی جائے گی جو کسی پائلٹ بردار طیارے میں پہلے کبھی نہیں آزمائی گئی۔
ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزکمین نے کہا کہ ادارے کو اگلے دو سال میں ناسا کے بینر تلے اس کی پہلی پرواز کی توقع ہے۔ طیارے کو بدھ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سنٹر میں ایک سمٹ کے دوران پیش کیا گیا۔
ناسا کے مطابق ایکس 70 کا وزن اڑان کے وقت تقریباً 4,500 کلوگرام ہوگا، وہ ماخ 0.75، یعنی آواز کی رفتار کے تین چوتھائی حصے پر محو پرواز رہے گا اور 45,000 فٹ کی بلندی تک جا سکے گا، جبکہ اس کی رینج 2,700 کلومیٹر سے زیادہ ہوگی۔ یہ اندر اور باہر تقریباً 900 کلوگرام تجرباتی سامان لے جا سکتا ہے، اور اس کا ماڈولر ڈیزائن ٹیموں کو انہیں جلدی تبدیل کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
ناسا کی جاری کردہ تصویر ایک سیاہ خاکہ ہے، اور اعلان میں ادارے نے لاگت نہیں بتائی۔ یہ طیارہ ایکس پلینز کے اس سلسلے میں شامل ہو گیا ہے جس میں 1947 میں پہلی بار آواز کی حد توڑنے والا بیل ایکس 1، ایکس 15 ہائپرسونک تحقیقی طیارہ اور آج کا ایکس 59 خاموش سپرسونک طیارہ شامل ہیں۔



