انقرہ (تھرسڈے ٹائمز) — ترک پارلیمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے بل کی پہلی شق منظور کر لی ہے، جس سے یہ معاہدہ نافذ ہونے کے ایک قدم اور قریب آ گیا ہے۔
ارکان نے بل پر مجموعی بحث مکمل ہونے کے بعد جمعرات کی صبح سویرے یہ شق منظور کی۔ ڈپٹی اسپیکر جلال عدن نے اس کے بعد اجلاس جمعرات کی دوپہر تک ملتوی کر دیا، جب باقی شقوں پر ووٹنگ جاری رہنی تھی۔ اس خبر کی اشاعت تک حتمی منظوری کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
یہ معاہدہ تمام فریقوں کی توثیق مکمل ہونے پر نافذ ہوگا۔ سعودی عرب اور پاکستان اپنے داخلی مراحل مکمل کر چکے ہیں، اور ترک پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی 27 اکتوبر کو بل منظور کر چکی تھی۔
حکمران اے کے پی اور اس کی اتحادی ایم ایچ پی کے ساتھ حزب اختلاف کی بڑی جماعت سی ایچ پی بھی معاہدے کی حامی ہے۔ سی ایچ پی کے فائق اوزتراک نے کہا کہ اس سے ترکیہ کو نیٹو سے باہر ایک نیا علاقائی سیکیورٹی ڈھانچہ بنانے کا موقع ملتا ہے۔ سابق وزیر دفاع حلوصی آکار نے کہا کہ یہ معاہدہ “کسی طرح بھی نیٹو کا متبادل نہیں” ہے اور کسی بھی فوجی تعیناتی کے لیے پارلیمان کی منظوری ضروری ہوگی۔
خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ فؤاد اوکتائے نے کہا کہ حملے کی صورت میں معاہدہ مشاورت کا طریقہ کار فعال کرتا ہے اور فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں۔ ڈیم پارٹی اور آئی وائی آئی پارٹی سمیت کچھ حزب اختلاف کی جماعتوں نے فوجی ذمہ داریوں کے ابہام اور علاقائی تنازعات میں الجھنے کے خطرے کی نشاندہی کی۔
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے 7 اگست کو مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کے تحت ایک پر مسلح حملہ سب پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔ شام کا کہنا ہے کہ وہ اس میں شمولیت پر غور کر رہا ہے۔



