نئی دہلی (تھرسڈے ٹائمز) — بھارت نے ملک میں مقیم بعض پاکستانی شہریوں کے لیے پاسپورٹ کے قواعد میں نرمی کر دی ہے۔ یہ چھوٹ ان افراد کے لیے ہے جو 2010 سے پہلے وہاں آباد ہوئے اور پاکستانی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) نہ ہونے کی وجہ سے اپنے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کرا سکتے۔
یہ تبدیلی امیگریشن اینڈ فارنرز (ایگزمپشن) (ترمیمی) آرڈر 2026 کا حصہ ہے، جسے بھارتی وزارتِ داخلہ نے جمعرات کو سرکاری گزٹ میں شائع کیا۔ اس کا اطلاق ان پاکستانی شہریوں پر ہوتا ہے جو 31 دسمبر 2009 یا اس سے پہلے مستقل رہائش کے ارادے سے بھارت آئے۔
شرائط سخت ہیں۔ درخواست گزار نے پاکستان میں نہ شادی کی ہو اور نہ کوئی جائیداد خریدی ہو، پاکستان جاتے وقت بھارتی شہریت رکھنے والے اہلِ خانہ کو پیچھے چھوڑا ہو، اور پاکستان واپس نہ جانے کا عہد کرے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے کوئی منفی رپورٹ بھی نہیں ہونی چاہیے۔
اور کون شامل ہے: افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور مسیحی تارکینِ وطن جو 31 دسمبر 2024 یا اس سے پہلے بھارت میں داخل ہوئے، بشمول وہ جن کے پاس درست پاسپورٹ نہیں یا جن کا پاسپورٹ ختم ہو چکا ہے؛ 9 جنوری 2015 یا اس سے پہلے بھارت میں پناہ لینے والے رجسٹرڈ سری لنکن تامل؛ 1959 سے 30 مئی 2003 کے درمیان بھارتی اجازت ناموں پر یا اس کے بعد خصوصی داخلہ پرمٹ پر نیپال کے راستے آنے والے تبتی؛ اور ملائیشیا یا سنگاپور کی شہریت لینے والے بھارتی نژاد افراد جو 2009 کے آخر تک بھارت لوٹ آئے۔
یہ حکم نامہ پاسپورٹ کی شرط ختم کرتا ہے، ویزا کی نہیں: ان تمام افراد کو بھارت میں رہنے کے لیے مناسب ویزا لینا ہوگا۔
حکم نامے میں نیپال اور بھوٹان کے ساتھ بھارت کی کھلی سرحدوں کے قواعد بھی بدلے گئے ہیں۔ تینوں ممالک کے شہری آپس میں براہِ راست زمینی یا فضائی سفر کے لیے پاسپورٹ کے بجائے بھارتی ویزا مینوئل میں درج شناختی دستاویزات دکھا سکتے ہیں۔ تاہم چین، مکاؤ، ہانگ کانگ یا پاکستان سے سفر شروع کرنے یا وہاں سے گزرنے والے نیپالی اور بھوٹانی شہریوں کے پاس درست پاسپورٹ اور ویزا ہونا لازمی ہے، اور نیپال یا بھوٹان کے راستے دوسرے ممالک جانے والے بھارتیوں کو پاسپورٹ رکھنا اور مقررہ امیگریشن چوکیوں سے گزرنا ہوگا۔
ڈیوٹی پر سفر کرنے والے بھارتی بری، بحری اور فضائی افواج کے اہلکار اور سرکاری ٹرانسپورٹ پر ان کے ساتھ سفر کرنے والے اہلِ خانہ بھی مستثنیٰ ہیں، اسی طرح مرمت کے لیے بھارت آنے والے غیر ملکی فوجی جہازوں کا عملہ بھی، بشرطیکہ ان کے پاس فوجی شناخت ہو۔



