واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کو کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کو اپنی زمینی سرحدوں اور بحیرۂ کیسپین کے پار جدید ہتھیار اور دیگر سامان منتقل کرنے سے روکنے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کر دی ہے، جس سے وہ بحری ناکہ بندی، جس نے ایران کی تیل کی برآمدات بند کر رکھی ہیں، خشکی تک پھیل جائے گی۔
سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے 7 نومبر کو ٹاسک فورس آئرن گیٹ کی تشکیل کا حکم دیا۔ کمانڈ کے مطابق فلوریڈا کے شہر ٹیمپا میں کمانڈ کے ہیڈکوارٹر میں قائم تقریباً 20 سویلین اور فوجی اہلکاروں پر مشتمل یہ ٹیم دیگر امریکی سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرۂ کیسپین کے پار “جدید ہتھیاروں کے نظام، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی، پابندی زدہ سامان اور غیر قانونی آمدنی” کی نقل و حرکت روکنے کے لیے کام کرے گی۔
کوپر نے کہا: “ٹاسک فورس آئرن گیٹ کا قیام سمندر میں ایران کے خلاف ہماری آہنی ناکہ بندی کی کامیابی کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ امریکی بین الادارہ شراکت داروں کے ساتھ سینٹکام کا تعاون بڑھانے سے ایران کی دہشت گردی کی مالی معاونت، ہتھیاروں کے کارخانے دوبارہ تعمیر کرنے اور اپنی فوج کی کمی پوری کرنے کی صلاحیت مزید محدود ہو جائے گی۔”
سمندر میں ناکہ بندی: جولائی میں اعلان کردہ بحری ناکہ بندی خلیج اور خلیجِ عمان پر ایران کی تمام بندرگاہوں پر لاگو ہے اور انسانی امداد کے سوا تمام درآمدات اور برآمدات پر پابندی عائد کرتی ہے۔ سینٹکام کے مطابق حالیہ مہینوں میں اس نے ایران کو 25 ارب ڈالر سے زیادہ کا خام تیل برآمد کرنے سے روکا ہے، اور ایرانی بندرگاہوں میں آنے اور وہاں سے جانے والے تمام جہازوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
ایران کی زمینی سرحدیں سات ممالک سے ملتی ہیں، جن میں پاکستان، افغانستان، عراق اور ترکیہ شامل ہیں، جبکہ بحیرۂ کیسپین اسے سمندری راستے سے روس، قازقستان، ترکمانستان اور آذربائیجان سے ملاتا ہے۔ سینٹکام نے یہ نہیں بتایا کہ امریکی حکومت کی کوششوں کو مربوط کرنے کے علاوہ ٹاسک فورس ان راستوں پر کیا کارروائی کرے گی۔
یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب واشنگٹن مذاکرات کے ساتھ ساتھ تہران پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جمعے کو محکمۂ خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات پر دو کروڑ ڈالر تک انعام کی پیشکش کی، اور نائب صدر جے ڈی وینس نئی جنگ بندی اور جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے تقریباً روزانہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطر کے وزیرِ اعظم سے بات کر رہے ہیں۔



