واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکا نے محکمۂ خارجہ کے ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات دینے پر دو کروڑ ڈالر تک انعام اور ممکنہ نقل مکانی کی پیشکش کی ہے، جن میں اس کی تنصیبات، آلات اور اس پر کام کرنے والے افراد سے متعلق معلومات شامل ہیں۔
پروگرام کے مطابق یہ پیشکش ایران کی جوہری “تنصیبات، آلات اور متعلقہ عملے، جیسے سائنسی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد، یا ان میں سے کسی کی نقل و حرکت” کے بارے میں معلومات کے لیے ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعے کو ایکس پر اس کی تشہیر کی۔ یہ اعلان انگریزی کے ساتھ فارسی میں بھی جاری کیا گیا ہے، اور معلومات کئی ذرائع سے بھیجی جا سکتی ہیں، جن میں ایک خفیہ پیغام رسانی لائن اور ٹور پر مبنی ویب سائٹ شامل ہے۔

واشنگٹن کا مؤقف: پروگرام میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی 2025 کی اس رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق ایران یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے، جو ہتھیار کے لیے درکار 90 فیصد سے “صرف ایک مختصر تکنیکی قدم” دور ہے۔ اس کے مطابق ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے والا واحد ملک ہے جو اس سطح کا یورینیم تیار کرتا ہے، اور حفاظتی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی وجہ سے ایجنسی ایران کی سینٹری فیوجز کی تیاری اور ذخیرے کے بارے میں “معلومات کا تسلسل” کھو چکی ہے۔
یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ تہران کے ساتھ مذاکرات بھی کر رہی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نئی جنگ بندی اور جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے تقریباً روزانہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطر کے وزیرِ اعظم سے بات کر رہے ہیں، اور وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین سے کہا ہے کہ وہ جنگ ختم کرانے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ایران کا یہ ٹھوس اور قابلِ تصدیق عہد ضروری ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام دوبارہ تعمیر نہیں کرے گا۔
گرمیوں میں سوئٹزرلینڈ میں براہِ راست مذاکرات کے ایک دور میں ایران نے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات پر مدعو کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمتی یادداشت ختم ہونے کے ساتھ یہ عہد بھی ختم ہو گیا۔
تہران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔



