واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ایران کی زمینی اور بحری تجارت روکنے کے لیے قائم کی گئی نئی فوجی ٹاسک فورس “پوری طاقت اور اثر کے ساتھ” نافذ ہے۔ ان کا یہ بیان ایرانی وزیرِ خارجہ کے اس پیغام کے چند گھنٹے بعد آیا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کھولنے کی تہران کی پیشکش قبول کرے یا جنگ کا سامنا کرے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: “ٹاسک فورس آئرن گیٹ اسلامی جمہوریہ ایران میں پوری طاقت اور اثر کے ساتھ نافذ ہے۔ تاریخ کی سب سے بڑی بحری ناکہ بندی کے ساتھ مل کر، ایران میں بہت کم چیزیں آ یا جا سکتی ہیں!”
ٹاسک فورس: امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ہفتے کو ٹاسک فورس آئرن گیٹ کی تشکیل کا حکم دیا۔ تقریباً 20 سویلین اور فوجی اہلکاروں پر مشتمل اس ٹیم کا مقصد ایران کو اپنی زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپین کے راستے “جدید ہتھیاروں کے نظام، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی، پابندی زدہ مواد اور غیر قانونی آمدنی” منتقل کرنے سے روکنا ہے، جس سے جولائی میں اعلان کردہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو زمین تک وسعت ملی ہے۔ سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس ناکہ بندی نے ایران کو 25 ارب ڈالر سے زائد کا خام تیل برآمد کرنے سے روکا ہے۔ ایران کی زمینی سرحدیں پاکستان سمیت سات ممالک سے ملتی ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان اتوار کو وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی وارننگ کے بعد آیا۔ عراقچی نے لکھا تھا: “امریکی ووٹرز نے اپنا فیصلہ کر دیا ہے۔ اب وائٹ ہاؤس کے فیصلہ کرنے کا وقت ہے۔” انہوں نے کہا کہ اگر امریکا شرائط پوری کرے تو ہرمز کھولنے کی ایران کی دو روزہ تجویز برقرار ہے، ورنہ ایران کی افواج “جہنم برسائیں گی”۔
پس پردہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس پچھلے دو ہفتوں سے نئی جنگ بندی پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطر کے وزیرِ اعظم سے تقریباً روزانہ بات کر رہے ہیں، اور ثالثوں نے امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان تکنیکی سطح کی ایک ملاقات پر بات کی ہے جو ابھی تک نہیں ہوئی۔ امریکی حکام کے مطابق فوج مختصر نوٹس پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔



